مستقل عہدیداروں کے تقرر کی مساعی، موجودہ عہدیداروںسے حکومت ناخوش،اردو اساتذہ چار ماہ سے انعامی رقم سے محروم
حیدرآباد ۔25۔ڈسمبر (سیاست نیوز) ریاست میں اقلیتی اداروں کی کارکردگی کے بارے میں ہمیشہ عوام کو شکایت رہی ہے لیکن انتخابی ماحول کے آغاز کے ساتھ ہی اقلیتی اداروں کی کارکردگی ٹھپ ہوچکی ہے۔ گزشتہ تقریباً تین ماہ سے اقلیتی اسکیمات پر عمل آوری کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور محکمہ فینانس سے بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب کئی اہم اسکیمات کے استفادہ کنندگان کو فنڈس جاری نہیں کیا گیا جاسکا۔ کانگریس حکومت کی 7 ڈسمبر کو تشکیل کے بعد تقریباً تین ہفتے مکمل ہونے کو ہے لیکن اقلیتی اسکیمات کیلئے بجٹ کی اجرائی پر محکمہ کے عہدیداروں نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی جس کا راست اثر اسکیمات پر پڑا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹری کے بشمول دیگر اہم عہدیداروں پر تبدیلی کا خوف طاری ہے کیونکہ سابق بی آر ایس حکومت نے سید عمر جلیل کو وظیفہ پر سبکدوشی کے باوجود دوبارہ تقرر کیا۔ ریونت ریڈی حکومت ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ مقرر کئے گئے عہدیداروں کی تبدیلی کا فیصلہ کرچکی ہے اور ایسے عہدیداروں کی تعداد تقریباً پانچ بتائی جاتی ہے ۔ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی چناؤ کے لئے الیکشن کمیشن نے 11 اکتوبر کو شیڈول جاری کیا تھا جس کے بعد سے انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ کردیا گیا ۔ ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے ساتھ ہی اسکیمات پر عمل آوری اور بجٹ کی اجرائی روک دی گئی۔ 3 نومبر کو الیکشن نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اور 30 نومبر کو رائے دہی ہوئی۔ 3 ڈسمبر کو نتائج کے اعلان کے بعد 5 ڈسمبر کو ضابطہ اخلاق کا نفاذ ختم ہوگیا۔ باوجود اس کے اقلیتی اسکیمات کیلئے بجٹ جاری نہیں کیا گیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ائمہ اور مؤذنین کے اعزازیہ ، اوورسیز اسکالرشپ اسکیم ، پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اور دیگر اسکیمات کیلئے محکمہ فینانس نے فنڈس جاری نہیں کئے ہیں۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن سے الیکشن سے عین قبل ایک لاکھ روپئے کے امدادی چیکس جاری کئے گئے تھے جن میں سے کئی چیکس کے باؤنس ہونے کی شکایت ملی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ عجلت میں چیکس پر امیدوار کا نام یا پھر بینک تفصیلات غلط درج کردی گئیں جس کے نتیجہ میں چیکس باؤنس ہوچکے ہیں۔ شادی مبارک اسکیم کے منظورہ چیکس کی رقم بھی امیدواروں کے بینک اکاؤنٹ میں جمع نہیں ہوئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تلنگانہ اردو اکیڈیمی سے بیسٹ اردو ٹیچرس ایوارڈ حاصل کرنے والے 214 اساتذہ گزشتہ چار ماہ سے انعامی رقم سے محروم ہیں۔ اکیڈیمی نے 6 اگست کو تین سال کے بیسٹ اردو ٹیچر ایوارڈس کے طور پر 214 اسکول ، کالجس اور یونیورسٹیز کے اساتذہ کو ایوارڈس پیش کئے تھے۔ انعامی رقم کے طورپر فی کس 25000 روپئے کے کاغذی چیکس حوالے کئے گئے تھے۔ انعام یافتہ اساتذہ کو چار ماہ سے انعامی رقم کا انتظار ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت کو اقلیتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے متحرک اور دیانتدار عہدیداروں کی تلاش ہے۔ چیف منسٹر کے سکریٹری شاہنواز قاسم کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے۔ اقلیتی اداروں میں کئی برسوں سے عہدیداروں کی کمی کی شکایت رہی ہے۔ ایک عہدیدار کو اضافی ذمہ داریاں دیتے ہوئے دو یا تین عہدیداروں کے ذریعہ اقلیتی ادارے چلائے جارہے تھے۔ اقامتی اسکول سوسائٹی کے سکریٹری بی شفیع اللہ کو حج کمیٹی اور اردو اکیڈیمی کی اضافی ذمہ داریاں دی گئی ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل ڈائرکٹر اقلیتی بہبود اور ڈائرکٹر اسٹڈی سرکل کی اضافی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی مینجنگ ڈائرکٹر کانتی ویسلی کو کرسچن کارپوریشن کی اضافی ذمہ داری ہے۔ طویل عرصہ سے وقف بورڈ کے انچارج چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے طور پر خواجہ معین الدین کی خدمات برقرار ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت تمام اداروں پر مستقل اور سینئر عہدیداروں کا تقرر کرے گی تاکہ اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور اسکیمات پر موثر عمل آوری میں مدد ملے۔ اقلیتی بہبود کے بارے میں شاہنواز قاسم کے دیرینہ تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چیف منسٹر ریونت ریڈی عنقریب اہم فیصلے کرسکتے ہیں۔ر