اقلیتی اسٹڈی سرکل کے ذریعہ کروڑہا روپئے کے اخراجات ‘ نتائج صفر

   


چار تا پانچ سال میں امیدوار اہلیتی امتحان کامیاب نہیں کرپائے ۔ عہدیدار جواب دینے سے قاصر
حیدرآباد۔25اکٹوبر(سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود کے زیر اہتمام مائناریٹی اسٹڈی سرکل کے ذریعہ 2018 تا 2022 جملہ 7کروڑ 47 لاکھ روپئے خرچ کرکے مختلف مسابقتی امتحانات کی تربیت فراہم کرنے کے دعوے کئے گئے لیکن ان اسٹڈی سرکل میں تربیت پانے والوں میں کتنے امیدواروں نے اہلیتی امتحانات میں کامیابی حاصل کی ہے اس کا جواب طلب کرنے پر محکمہ جواب دینے سے قاصر ہے۔ حکومت سے ریاست میں اقلیتوں کی فلاح و بہبودکے متعدد عوے کئے جاتے ہیں لیکن اسٹڈی سرکل کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ریاست میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود و ترقی سے کسی کو دلچسپی نہیں ہے بلکہ اقلیتوں کے نام پر جاری بجٹ پر سب کی نظریں ہوتی ہیں۔ 2018 تا 2022 محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت مائناریٹی اسٹڈی سرکل کے ذریعہ سول سروسز کے علاوہ دیگر مسابقتی امتحانات کی تربیت فراہم کی گئی لیکن اس مدت میں ایک بھی امیدوار امتحانات میں کامیاب نہیں ہوپایا ہے جبکہ تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ محکمہ جنگلات میں سال 2018 میں کئے گئے تقررات میں محض ایک نوجوان کو کامیابی حاصل ہوئی ۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں برسر کار عہدیداروں کی عدم دلچسپی اور لاپرواہی سے اقلیتی بہبود کا بجٹ تو خرچ ہورہا ہے لیکن اس کے کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوپارہے ہیں جو کہ حکومت کی نیک نامی کو متاثر کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ قانون حق آگہی کے تحت محصلہ تفصیلات میں انکشاف ہوا کہ اقلیتی اسٹڈی سرکل سے تاحال کسی بھی مسلم یا اقلیتی نوجوان کو مسابقتی امتحانات میں کامیابی کے بعد ملازمت حاصل نہیں ہوئی بلکہ کروڑہا روپئے کے اخراجات کے باوجود نتائج صفر رہے ۔ طلبہ و امیدواروں سے دریافت کرنے پر ان کا کہناہے کہ وہ تربیت کے دوران فیکلٹی کیلئے عہدیداروں کو متعدد مرتبہ توجہ دہانی کرواتے رہے ہیں لیکن عہدیداروں کا کہنا تھا کہ جو فیکلٹی دستیاب ہے وہ نامور اساتذہ ہیں لیکن اس کے باوجود نتائج صفر ہونے کے پر امیدواروں کی اہلیت پر سوال اٹھانے لگے ہیں جبکہ اسٹڈی سرکل میں پریلمس میں کامیاب نہ ہونے والے امیدوار خانگی کوچنگ کے حصول کے ذریعہ ابتدئی مرحلہ میں کامیابی حاصل کرچکے ہیں اور اس کے بعد عہدیداروں سے امیدواروں کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں ہے۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں اور وزارت اقلیتی بہبود کو تلنگانہ مائناریٹی اسٹڈی سرکل کی جانب سے فراہم کی جانے والی تربیت اور اخراجات کے معاملہ میں فوری تحقیقات کا آغاز کرنا چاہئے کیونکہ محکمہ اقلیتی بہبود کے کئی اداروں کو بجٹ یہ کہتے ہوئے فراہم نہیں کیا جا رہاہے کہ اقلیتی نوجوانوں کی تعلیم کو بہتر بنانے رقومات خرچ کی جا رہی ہیںجبکہ تعلیم وتربیت کے نام پر اخراجات کے منفی نتائج برآمد ہورہے ہیں۔م