حیدرآباد: حیدرآباد سٹی کانگریس کمیٹی میناریٹیز ڈپارٹمنٹ صدرنشین سمیر ولی اللہ نے تلنگانہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ سال 2020-21 میں اقلیتی بہبود کیلئے الاٹ کردہ بجٹ مکمل جاری کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ نیا بجٹ پیش ہوگا، لہذا حکومت کو جاریہ سال کا مکمل بجٹ فوری جاری کرنا چاہئے تاکہ اسکیمات پر عمل کیا جاسکے۔ مختلف اسکیمات خاص طور پر تعلیم سے متعلق اسکیمات کیلئے بجٹ کی عدم اجرائی تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے 1344.77 کروڑ روپئے مختص کئے تھے لیکن 908.41 کروڑ کی اجرائی کے احکامات جاری کئے گئے جبکہ حقیقی فنڈس کی اجرائی مایوس کن ہے ۔ لاکھوں طلبہ اسکالرشپ اور فیس باز ادائیگی سے محروم ہیں۔ سمیر ولی اللہ نے کہا کہ اقامتی اسکولوں کیلئے 106.77 کروڑ کے احکامات جاری کئے گئے لیکن صرف 53.38 کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں اور ہاسٹلس میں طلبہ کیلئے ڈائیٹ چارجس کے طور پر ایک روپیہ بھی جاری نہیں ہوا۔ یکم فروری سے اسکول اور کالجس کا آغاز ہوچکا ہے ، لہذا حکومت کو فنڈس جاری کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ شادی مبارک اسکیم کیلئے 75 کروڑ ، فیس باز ادائیگی کیلئے 51.73 کروڑ ، اسکالرشپ کیلئے 18.7 کروڑ اور اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کیلئے 15.63 کروڑ کی اجرائی باقی ہے۔ بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم اور ٹریننگ ایمپلائیمنٹ اسکیم کا بجٹ جاری نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پری میٹرک اسکالرشپ اور باز ادائیگی کیلئے 30 فیصد فنڈس کی اجرائی ابھی باقی ہے۔ سمیر ولی اللہ نے کہا کہ مکہ مسجد اور شاہی مسجد کی مرمت اور نگہداشت کیلئے 2.35 کروڑ جاری نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس قائدین تلنگانہ میں اقلیتی بہبود کیلئے 2000 کروڑ بجٹ کا دعویٰ کر رہے ہیں جبکہ حقیقی صورتحال مختلف ہے۔ وزیر داخلہ محمود علی نے گزشتہ 6 برسوں کے دوران اقلیتوں کی بھلائی پر 4945 کروڑ خرچ کرنے کا اعتراف کیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اقلیتی بہبود کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہے ۔ انہوں نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ باقی بجٹ کی اجرائی کیلئے محکمہ فینانس کو ہدایات جاری کریں۔