اقلیتی کمیشن کا ایک سال سے وجود نہیں ، مسائل کی یکسوئی میں دشواریاں

   


دستوری ادارہ سے حکومت کی لاپرواہی ، ایس سی ، بی سی اور مہیلا کمیشن کی تشکیل، اقلیتوں سے ناانصافی

حیدرآباد ۔5 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) علحدہ تلنگانہ جدوجہد کے دوران اقلیتوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ نئی ریاست میں ان کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی اور خوشحالی اور ترقی میں اقلیتیں برابر کے ذمہ دار ہوں گے۔ متحدہ آندھراپردیش میں ناانصافیوں سے عاجز آکر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں نے تلنگانہ تحریک کی نہ صرف تائید کی بلکہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مسلمانوں کو امید تھی کہ نئی ریاست میں ان کے دستوری اور جمہوری حقوق کا تحفظ ہوگا ۔ مسلمانوں سے کئے گئے انتخابی وعدوں کی عدم تکمیل سے ہر کوئی واقف ہے۔ گزشتہ 8 برسوں میں اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کیلئے بجٹ کی اجرائی کے معاملہ میں حکومت کی غیر سنجیدگی آشکار ہوچکی ہے۔ اقلیتوں کے دستوری اور جمہوری حقوق کے تحفظ میں اقلیتی کمیشن کا اہم رول ہوتا ہے لیکن گزشتہ 8 برسوں میں صرف ایک مرتبہ اقلیتی کمیشن تشکیل دیا گیا اور میعاد کی تکمیل کے بعد نئے کمیشن کی تشکیل میں حکومت کو کوئی دلچسپی دکھائی نہیں دیتی۔ 2014 ء میں تلنگانہ کے قیام کے بعد چار سال کمیشن کا وجود نہیں تھا۔ جنوری 2018 ء میں محمد قمرالدین کو صدرنشین مقرر کرتے ہوئے نائب صدرنشین اور 6 ارکان کو نامزد کیا گیا تھا ۔ کمیشن کی میعاد جنوری 2021 ء میں ختم ہوگئی جس کے بعد سے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کمیشن کا وجود نہیں ہے۔ کمیشن میں صدرنشین کے بشمول تین مسلم ارکان تھے جبکہ دیگر ارکان کا تعلق عیسائی ، پارسی ، سکھ اور جین طبقات سے تھا۔ کمیشن کی میعاد کے دوران جب کبھی مسلمانوں کو کوئی اہم مسئلہ درپیش ہوتا تو لوگ کمیشن سے رجوع ہوتے ۔ سرکاری محکمہ جات میں ناانصافیوں کے علاوہ اقلیتی اسکیمات پر عمل آوری میں عہدیداروںکی سست روی کے خلاف بھی کمیشن سے شکایات کی گئیں۔ اقلیتی کمیشن نے کئی اہم مسائل کی یکسوئی کرتے ہوئے اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا ہے ۔ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی میں اردو ڈگری کورس کی بحالی میں کمیشن کا اہم رول تھا۔ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے علاوہ محکمہ تعلیم ، پولیس، ریونیو ، پنچایت راج اور دیگر محکمہ جات سے متعلق شکایتوں کی یکسوئی کیلئے کمیشن نے کامیاب مساعی کی تھی۔ کئی ضلع کلکٹرس اور آئی اے ایس عہدیداروں کو کمیشن نے طلب کرتے ہوئے ہدایات جاری کی تھیں۔ تین سالہ میعاد کے دوران کمیشن نے جملہ 337 درخواستوں کی یکسوئی کی جبکہ کمیشن کو جملہ 447 درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ ہر ہفتہ کمیشن کا باقاعدہ اجلاس منعقد ہوتا جس میں مختلف محکمہ جات کے عہدیدار شریک ہوکر اپنا موقف بیان کرتے۔ اقلیتی کمیشن دراصل غریب اور بے زبان اقلیتی افراد کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔ کمیشن کو اختیارات حاصل ہے کہ وہ عہدیداروں کو نہ صرف طلب کرسکتا ہے بلکہ عدول حکمی کی صورت میں ان کے خلاف کارروائی کی حکومت سے سفارش کرسکتا ہے۔ کمیشن کے دستوری موقف اور اختیارات کے نتیجہ میں کئی مسائل حل ہوتے رہے لیکن گزشتہ ایک سال سے کمیشن کا وجود نہیں ہے جس کے نتیجہ میں عوام اپنے مسائل کے سلسلہ میں سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ کے سی آر حکومت نے دیگر طبقات کے اداروں پر تقررات کئے ہیں جن میں بی سی کمیشن ، ایس سی ، ایس ٹی کمیشن اور مہیلا کمیشن شامل ہیں لیکن اقلیتی کمیشن کی تشکیل سے کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی۔ اگر اقلیتوں کے مسائل کے حل میں حکومت سنجیدہ ہے تو پھر سرکاری اداروں کی طرح اس دستوری ادارہ کی تشکیل عمل میں لائی جائے۔ ر