ملک کے ایک سرکردہ انگریزی روزنامہ کی آج شائع شدہ رپورٹ نے الیکشن کمیشن کی پول کھول کر رکھ دی ہے بلکہ یہ واضح کردیا ہے کہ الیکشن کمیشن بالکل بھی الیکشن کمیشن کی طرح کام نہیں کر رہا ہے بلکہ اکثریتی فیصلے کی روایت کو بھی پامال کردیا گیا ہے اور صرف چیف الیکشن کمشنر کے فیصلے ہی لاگو کئے جا رہے ہیں جبکہ یہ دعوی عام ہوگیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر مرکزی حکومت کے پٹھو کی طرح کام کر رہے ہیں۔ انگریزی روزنامہ نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ تین رکنی الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار یکطرفہ فیصلے کر رہے ہیں۔ ان کے فیصلوں پر تقریبا 14 مرتبہ دو ساتھی الیکشن کمشنران سکھبیر سنگھ سندھو اور ویویک جوشی نے اعتراض جتایا تھا ۔ یہ دعوی بھی کیا گیا ہے کہ ان دونوں الیکشن کمشنران نے تحریری طور پر اپنی ناراضگی اور مخالفت بھی جتائی تھی تاہم ان کی تحریری شکایت کو بھی خاطر میں لائے بغیر نظر انداز کردیا گیا ۔ رپورٹ میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ کئی فیصلے تو دونوں الیکشن کمشنران کے علم میں لائے بغیر صرف گیانیش کمار نے ہی اپنے طور پر مسلط کردئے تھے ۔ یہ ہندوستان کے جمہوری عمل کے ساتھ مذاق ہی نہیں بلکہ ایک سنگین جرم ہے اور اس طرح سے ملک کے عوام کو ان کے حق رائے دہی کو تلف کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے جس طرح سے ووٹ چوری اور الیکشن چوری کے الزامات عائد کئے جا رہے تھے وہ اب بالکل درست ثابت ہونے لگے ہیں اور جن شبہات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کیا جا رہا تھا اس کی قلعی کھل گئی ہے ۔ الیکشن کمیشن میں جس طرح سے من مانی انداز میں فیصلے کئے جا رہے تھے اور ان پر عمل کیا جا رہا تھا اس کی پول کھل گئی ہے اور سارے ملک کے عوام کے سامنے آگئی ہے ۔ کمیشن کی امیج پوری طرح سے متاثر ہو کر رہ گئی ہے اور شبہات کو مزید تقویت حاصل ہوگئی ہے ۔ یہ ایک انتہائی سنگین اور ملک کی جمہوریت سے کھلواڑ کا مسئلہ ہے ۔ حالانکہ کمیشن اس الزام کی تردید کر رہا ہے لیکن یہ تردید بھی بالکل بے معنی ہی ہے ۔
قائد اپوزیشن راہول گاندھی کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر جو سنگین الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں ان کے تعلق سے اب شبہات کو تقویت مل رہی ہے ۔ راہول گاندھی کا بارہا کہنا تھا کہ گیانیش کمار حکومت کی کٹھ پتلی بن گئے ہیں اور حکومت کے طئے کردہ قوانین پر عمل آوری کو یقینی بنا رہے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن ایک آزاد ادارہ ہے ۔ راہول گاندھی نے ابتداء سے ووٹ چوری اور الیکشن چوری کے تعلق سے مہم شروع کر رکھی تھی اور اب یہ تو الزامات درست نظر آنے لگے ہیں کہ مغربی بنگال میں الیکشن چوری کیا گیا ہے ۔ کئی مواقع پر ٹریبونلس کو بھی کام کاج کرنے کا موقع نہیں دیا گیا ۔ یہ دعوی بھی کیا جا رہا ہے کہ ای آر اوز کو بھی ان کے کام کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور صرف وہی کچھ مسلط کردیا گیا جو چیف الیکشن کمشنر نے طئے کیا تھا ۔ ای آر اوز ہمیشہ سے نئے ووٹرس کے اندراج یا اعتراضات کی سماعت کرتے اور ان پر فیصلہ کرتے لیکن مرکزی الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک ٹکنیکل ٹیم مقرر کی گئی ہے جو ای آر اوز کو یہ کام بھی کرنے نہیں دے رہی ہے ۔ مغربی بنگال الیکشن کے تعلق سے جو الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں ان کی اب توثیق ہوتی نظر آر ہی ہے اور ملک کے سارے انتخابی عمل کا مذاق بنتا چلا جا رہا ہے ۔ سارے انتخابی عمل پر ہی سوال پیدا ہو رہے ہیں اور اس کیلئے اپوزیشن کے دعووں کے مطابق صرف چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ہی ذمہ دار ہیں۔
آج جو رپورٹ منظر عام پر آئی ہے اس نے ملک کے سارے انتخابی عمل کو ہی مشکوک بنادیا ہے اور صرف ایک شخص کی من مانی سارے ملک کے سامنے آگئی ہے ۔ یہ مسئلہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے اور اسے عام مسئلہ کی طرح تنقید کرکے ترک نہیں کیا جاسکتا ۔ اپوزیشن جماعتوں کو اس مسئلہ پر نئے سرے سے جدوجہد کرتے ہوئے مزید حقائق کو منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ملک کی جمہوریت اور ملک کے عوام کے حق کا مسئلہ ہے ۔ کسی حکومت کی یا الیکشن کمشنر کے رحم و کرم پر اسے نہیں چھوڑا جاسکتا ۔