پانی کے کفایتی استعمال کیلئے شعور بیداری ضروری، شمسی توانائی کی حوصلہ افزائی کی جائے: ڈاکٹر ہری چندنا
نلگنڈہ۔ 16 اکتوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ال نینو کے ممکنہ اثرات کے پیشِ نظر متحدہ ضلع نلگنڈہ کے عوام کو پینے کے پانی زراعت برقی سربراہی اور دیگر شعبوں میں مشکلات سے بچانے کے لیے گاؤں کی سطح پر باریک بینی کے ساتھ منصوبہ بندی کی جائے۔ یہ ہدایت ریاستی سکریٹری برائے محنت روزگار اور تربیت اور متحدہ ضلع نلگنڈہ کے لیے ال نینو کی صورتِ حال سے نمٹنے کی غرض سے مقرر کردہ خصوصی عہدیدار داسری ہری چندنا نے دی۔انہوں نے کہا کہ ال نینو کے تناظر میں پینے کے پانی کی فراہمی کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ آئندہ چار تا پانچ ماہ کے دوران ہر گاؤں اور ہر گھر تک پینے کا پانی پہنچانے کے لیے جامع منصوبہ تیار کیے جائیں۔آج نلگنڈہ ضلع کلکٹریٹ کے احاطے میں واقع اْدے آدتیہ بھون میں منعقدہ جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہری چندنا نے نلگنڈہ سوریا پیٹ اور یادادری بھونگیر اضلاع کے کلکٹروں اور متعلقہ محکموں کے عہدیداروں کے ساتھ زرعی فصلوں کی صورتِ حال آبپاشی پینے کے پانی برقی سربراہی اور زیرِ زمین آبی ذخائر کا جائزہ لیا۔انہوں نے بتایا کہ ڈسمبر کے اواخر تک ال نینو کے اثرات شدت اختیار کرنے کا امکان ہے اور پہلے ہی اضلاع کے تقریباً نصف علاقوں میں خشک سالی جیسی صورتِ حال پیدا ہوچکی ہے۔ اس کے نتیجے میں زراعت زیرِ زمین پانی پینے کے پانی اور برقی سربراہی سمیت مختلف شعبے متاثر ہوسکتے ہیں۔ہری چندنا نے کلکٹروں کو ہدایت دی کہ آبی ذخائر میں دستیاب پانی کا جائزہ لے کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے منصوبہ بندی کی جائے کہ آخری گاؤں اور آخری گھر تک پینے کا پانی پہنچ سکے۔ عوام کو پانی کی موجودہ صورتِ حال سے واقف کراتے ہوئے اس کے کفایتی استعمال کے بارے میں شعور بیدار کیا جائے۔خصوصی عہدیدار نے کسانوں کو ربیع کے موسم میں دھان کی کاشت سے گریز اور کم پانی میں تیار ہونے والی متبادل فصلوں کی کاشت کی طرف راغب کرنے کی ہدایت دی۔ کسانوں اور عوام کو شمسی توانائی سولار بیٹریوں سولار موٹروں اور ’سوریہ گھر‘ جیسی اسکیموں کے فوائد سے واقف کرایا جائے۔ مقامی سرپنچوں کے تعاون سے دیہی علاقوں میں شمسی توانائی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ زیرِ زمین پانی کی سطح میں اضافے کے لیے وی بی جی رام جی (VBG RAM G) اسکیم کے تحت بڑے پیمانے پر آبی تحفظ کے کام انجام دیے جائیں۔ بلدیات میں ضائع ہونے والے پانی کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کے منصوبہ تیار کیے جائیں۔ ان کے مطابق ڈسمبر اور جنوری میں صورتِ حال مزید سنگین ہوسکتی ہے لہٰذا تمام محکمے اسی امکان کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنی حکمتِ عملی تیار کریں۔انہوں نے منڈل سطح کے خصوصی عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ ہر ہفتہ سرپنچوں اور پنچایت سکریٹریوں کے ساتھ اجلاس منعقد کرکے ال نینو کی صورتِ حال کا جائزہ لیں اور گاؤں کی سطح پر عملی منصوبہ تیار کریں۔ ان منصوبوں کی بنیاد پر منڈل اور ضلع سطح کے منصوبے مرتب کیے جائیں۔اجلاس میں نلگنڈہ ضلع کلکٹر بی۔ چندر شیکھر نے بتایا کہ ضلع بھر میں معمول سے 34 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ سات منڈلوں میں معمول کے مطابق بارش ہوئی ہے۔ اجلاس میں سوریاپیٹ ضلع کلکٹر تیجس نند لال پوار اور یادادری بھونگیرضلع کلکٹر انوراگ جینتی نے اپنے اپنے اضلاع میں ال نینو کے ممکنہ اثرات زرعی صورتِ حال زیرِ زمین پانی برقی سربراہی پینے کے پانی مویشیوں کے چارے اور آبپاشی سے متعلق موجودہ حالات اور متبادل منصوبوں کی تفصیلات پیش کیں۔اس موقع پر انچارج ایڈیشنل کلکٹر مقامی ادارجات پریم کرن ریڈی ایڈیشنل کلکٹر سوریاپیٹ ہری سنگھ دیورکنڈہ سب کلکٹر کیرولینا چنگتھیان ماوی زراعت باغبانی زیرِ زمین پانی برقی سربراہی مشن بھاگیرتا صحتِ عامہ اور آبپاشی سمیت مختلف محکموں کے عہدیدار بھی موجود تھے۔