کاکروچ جنتا پارٹی کا آج دہلی میں ’’لہرادوترنگا‘‘ مارچ

,

   

جمعہ کو شام 5 بجے سنٹرل پارک میں قومی پرچم کے ساتھ جمع ہونے عوام سے اپیل
کناٹ پلیس کا سنٹرل پارک16اور 17اکتوبر کو بند کرنے این ڈی ایم سی کا حکم

نئی دہلی۔ 15 اکتوبر (ایجنسیز)نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے جمعہ 16 اکتوبر کو مجوزہ ’’لہرا دو ترنگا‘‘ مارچ کے پیش نظر کناٹ پلیس کے سنٹرل پارک کو 16 اور 17 اکتوبر کو عوام کیلئے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دہلی پولیس نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مجوزہ احتجاج سے دور رہیں۔یہ پیش رفت دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے سی جے پی کو مارچ منعقد کرنے سے روکنے کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔دہلی پولیس نے جمعرات کو بیان میں کہا کہ کناٹ پلیس اور اس کے اطراف میں امتناعی احکامات نافذ ہیں تاہم قومی پرچم لہرانے اور قومی ترانہ گانے کیلئے منتخب افراد کے ایک گروپ کو کسی مناسب مقام پر سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔این ڈی ایم سی نے 15 اکتوبر کو جاری کردہ نوٹس میں پارک کو ’’انتظامی وجوہات‘‘ کی بنا پر بند رکھنے کی اطلاع دی۔ پولیس کے مطابق، شہری ادارے نے پارک میں غیر مجاز داخلے کو روکنے کیلئے مناسب حفاظتی انتظامات کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔سی جے پی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جمعہ کو شام 5 بجے سنٹرل پارک میں قومی پرچم کے ساتھ جمع ہوں۔ پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے جمعرات کو پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں سے نظریاتی اختلافات سے بالاتر ہوکر مارچ میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔ڈپکے نے کہا کہ میں تمام سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ نظریاتی اختلافات سے اوپر اٹھ کر ایک ساتھ آئیں۔ اگر حق رائے دہی کو محفوظ نہیں رکھا گیا تو جمہوریت بھی محفوظ نہیں رہے گی۔یہ مارچ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کیے جانے والے احتجاج اور سی جے پی و دہلی پولیس کے درمیان جاری تنازعہ کے پس منظر میں منعقد کیا جا رہا ہے۔دہلی پولیس کے مطابق کناٹ پلیس اور ملحقہ علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے اور انسانی زندگیوں کے ساتھ سرکاری و نجی املاک کے تحفظ کے لیے بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 نافذ ہے۔ پولیس نے خبردار کیا ہے کہ امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔پولیس نے یہ بھی بتایا کہ کناٹ پلیس اور اطراف کے تجارتی و بازار انجمنوں نے تہواروں کے موسم میں کاروباری سرگرمیوں میں خلل اور غیر قانونی اجتماعات کے خدشات کے پیش نظر تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور امن برقرار رکھنے میں مدد کریں۔ پولیس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قومی پرچم لہرانے اور قومی ترانہ گانے کے دوران مقررہ ضوابط، احترام اور وقار کا لحاظ رکھا جائے۔سی جے پی کا مجوزہ مارچ پارٹی رہنماؤں سورَو داس اور آشوتوش رانکا کی گرفتاری کے بعد سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، دونوں رہنماؤں کوچہارشنبہ کے روز پانچ دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا تھا۔ ان پر جنتر منتر میں داخل ہوکر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگانے کا معاملہ ہے۔اس سے قبل دہلی پولیس نے جنتر منتر کو احتجاج کیلئے مقررہ مقام کی فہرست سے ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔ سی جے پی نے اس اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے قومی پرچم کے ساتھ دوبارہ وہاں پہنچ کر احتجاج کیا تھا۔پولیس حکام کے مطابق کناٹ پلیس احتجاج کیلئے مقررہ مقام نہیں ہے۔ حکام نے کہا کہ جنتر منتر کی حیثیت تبدیل کیے جانے کے بعد مظاہرین ضروری اجازت حاصل کرکے رام لیلا میدان، بریاری گراؤنڈ یا سی بی ڈی گراؤنڈ میں احتجاج کرسکتے ہیں۔جمعہ کے مارچ کے پیش نظر کناٹ پلیس اور جنتر منتر کے اطراف سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ دارالحکومت میں نیم فوجی دستوں کی متعدد کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں جبکہ پولیس اہم مقامات پر اہلکاروں کی تعیناتی، بیریکیڈنگ اور مظاہرین و مسافروں کی نقل و حرکت کو منظم کرنے کے اقدامات کر رہی ہے۔