دبئی ۔ متحدہ عرب امارات نے عام اقامہ ویزے اور گرین اقامہ میں فرق اور گرین اقامہ ہولڈرز کے لیے فوائد کے حوالے سے بیان جاری کیا ہے۔ الامارات الیوم کے مطابق سرکاری ویب سائٹ پر بتایا گیا کہ گرین اقامہ 2021 میں متعارف کرایا گیا۔ گرین اقامہ ہولڈر کو پانچ برس تک کسی اسپانسر،میزبان یا آجر کی مدد درکار نہیں ہوتی۔ میعاد ختم ہونے پر اس کی تجدید بھی ہوسکتی ہے۔ بیان میں گرین اقامہ ہولڈرز کو ملنے والی سہولتوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ گرین اقامہ ہولڈر غیرملکی اپنے اہل خانہ کے ویزے نکلوا سکتے ہیں۔ انہیں شوہر، بیوی، اولاد اور قریبی رشتہ داروں کے لیے ہر طرح کے اقامے کے اجرا میں آسانی ہوتی ہے۔ گرین اقامہ ہولڈرز 25 سال تک کے بیٹوں کو اپنے اقامہ پر رکھ سکتے ہیں۔ اس سے قبل بیٹوں کو اقامہ پر رکھنے کے لیے انتہائی عمر 18 برس تھی۔ گرین اقامہ ہولڈر غیر شادی شدہ بیٹیوں کو اپنے ہمراہ رکھ سکتے ہیں۔ ان کے لیے انتہائی عمر کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ معذور اولاد کو بھی اپنے ہمراہ رکھنے کے لیے کوئی انتہائی عمر کی شرط نہیں ہے۔گرین اقامہ ختم ہونے یا منسوخ ہونے پر 6 ماہ تک کارروائی سے محفوظ رہتے ہیں۔ گرین اقامہ ہولڈر کے ویزے کی جو میعاد ہوتی ہے وہی اس کے اہل خانہ کو بھی حاصل ہوتی ہے۔ اماراتی حکومت نے گرین اقامہ کی درخواست دینے والوں کے زمرے اور ضوابط مقررکیے ہیں۔ آزاد کاروبار کے لیے گرین اقامہ کے خواہشمندوں کو وزارت افرادی قوت سے آزاد کاروبار کا پرمٹ حاصل کرنا ہوگا۔ اس کے لئے بی اے پاس ہونا لازمی ہے یا اسپیشل ڈپلومہ ہولڈر ہونا چاہیے۔ آزاد کاروبار سے پچھلے دو برسوں کے دوران سالانہ آمدنی کم از کم 3لاکھ 60 ہزار درہم ہونا ضروری ہے یا یہ کہ امیدوار امارات میں طویل مدت تک قیام کے دوران اپنی مالی پوزیشن واضح کرے۔ حکومت سے ملازمت کے موثر معاہدے کی بنیاد پر ورک پرمٹ حاصل کرنا ہوگا۔ یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ہنرمندوں کے زمرے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے لیے کم از کم تعلیم بی اے پاس ہونا ضروری ہے۔ ماہانہ تنخواہ کم از کم 15 ہزار درہم ہو۔