امارات کا آزادانہ جہاز رانی کے دفاع کا اعلان

   

ابوظہبی ۔ 15 اگست (ایجنسیز) متحدہ عرب امارات کی سرکاری تیل کمپنی ایڈنوک نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے اس کے ایک بحری جہاز کو حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ اس اہم آبی گزرگاہ میں پیش آنے والا تازہ واقعہ ہے، جو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازعے کا ایک اہم مرکز بن چکی ہے۔ ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی ایڈنوک نے تصدیق کی ہے کہ اس کے ایک جہاز کو جمعہ کی شام آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔ واقعہ میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ رواں سال فروری میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز میں آمدورفت کو موثر طور پر محدود کر رکھا ہے اور تجارتی جہازوں پر حملے بھی کیے گئے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اس راستے سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنا چاہتا ہے، جبکہ امریکہ اس کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ حملے کے بعد متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہا کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی کے اپنے حق کا دفاع کرے گا۔ ان کے مطابق ایڈنوک کے ٹینکروں کو بار بار نشانہ بنائے جانے کے باوجود امارات دفاعی صلاحیت، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر مبنی اپنی پالیسی جاری رکھے گا۔ یہ تازہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل متحدہ عرب امارات نے ایران پر آبنائے ہرمز میں ایڈنوک سے منسلک دو جہازوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔ اماراتی وزارت خارجہ نے اسے ’’ایران کا دشمنانہ حملہ‘‘ قرار دیتے ہوئے مذمت کی تھی۔