امریکہ ایٹمی ہتھیاروں کے موجودہ ذخیرہ کو مزید بہتر بنائے گا

   

واشنگٹن : امریکہ نے کہا ہے کہ وہ روس، چین اور ایسے حریفوں سے جو ایٹمی ہتھیار بنا چکے ہیں یا جلد ہی یہ صلاحیت حاصل کر لیں گے، لاحق خطرہ سے نمٹنے کے لیے مزید ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کا منصوبہ نہیں رکھتا۔ وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون نے کہا ہے کہ اس کے بجائے واشنگٹن اپنے موجودہ ایٹمی ہتھیاروں کو جدید بنانے کے منصوبے رکھتا ہے اور اپنے حریفوں پر نظر رکھنے کے لیے جدید ٹکنالوجیز کا استعمال کرنا چاہتا ہے۔ جیک سلیون نے مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ ایٹمی ہتھیاروں کی نئی دوڑ روکنے کے لیے بات چیت کا امکان کھلا رکھے گی۔ جمعہ کے روز واشنگٹن میں، آرمز کنٹرول ایسو سی ایشن میں ایک تقریر کے دوران جیک سلیون نے کہا کہ امریکہ کو ملک سے مسابقت رکھنے والے ممالک کا کامیابی سے مقابلہ کرنے کے لیے اپنی ایٹمی قوت میں اضافہ کی ضرورت نہیں ہے۔ اور یہ کہ مؤثر سدِ باب کا مطلب ہے ہمارا بہتر طریقہ کار نہ کہ اس میں اضافہ۔ اس سے پہلے وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ وہ مستقبل میں نیوکلیر ہتھیاروں کے کنٹرول کے فریم ورک کے بارے میں پیشگی شرائط کے بغیر روس کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے اس فیصلہ کے جواب میں اقدامات کر رہا ہے جس میں انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان نیوکلیر ہتھیاروں کے کنٹرول کے معاہدہ کے لئے تعاون کو معطل کردیا تھا۔