امریکہ میں اِسلامو فوبیا کا خطرناک رجحان

   

ڈاکٹر مقتدر خان
پچھلے ماہ کی 18 تاریخ کو اسلامک سنٹر سان ڈیاگو پر حملے کا واقعہ پیش آیا جس میں 5 افراد اپنی زندگیوں سے محروم ہوگئے۔ مہلوکین میں وہ دو کم عمر نوجوان بھی شامل ہیں جنہوں نے مسلمانوں سے نفرت کے نتیجہ میں اسلامی مرکز کے باہر اندھادھند فائرنگ کردی تھی۔ سان ڈیاگو کے اسلامی مرکز پر ہوئے اس ہولناک حملے نے امریکہ کے بہترین اور بدترین دونوں پہلوؤں کو نمایاں کیا ہے۔ اس حملے نے امریکہ میں ہونے والے پرتشدد واقعات یعنی اندرون ملک ہورہی دہشت گردی، انتہا پسندی، اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر و بیانات کے خطرناک و مہلک نتائج کی شکل میں بدترین رُخ دکھایا لیکن ہم یہاں یہ بھی بلاجھجک کہہ سکتے ہیں کہ مذکورہ حملے نے امریکی معاشرہ کا بہترین رخ یا پہلو بھی منظر عام پر لایا ہے۔ مثال کے طور پر ان متاثرین کی شجاعت و بہادری جنہوں نے اپنی جانیں خطرہ میں ڈال کر یہاں تک کہ اپنی جانیں قربان کرکے دوسروں کی زندگیاں بچائیں۔ اس طرح ان سکیورٹی اہلکاروں کی غیرمعمولی جرأت جو اسلامی مرکز ؍ مسجد کے تحفظ کیلئے فوراً وہاں پہنچ گئے اور اس کمیونٹی کی ثابت قدمی جو نفرت انگیز مہمات کے باوجود ٹوٹنے بکھڑنے سے انکار کررہی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ واقعہ تشدد کا ایک اور اتفاقی واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک خوفناک و ہولناک یاد دہانی تھی کہ امریکی سیاست میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور اسلاموفوبیا گہری جڑیں پکڑ رہے ہیں اور اب حال یہ ہوگیا ہے کہ وہ خونریزی و تشدد کی خطرناک سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ پیر 18 مئی کو دو نوجوانوں نے سان ڈیاگو کے اسلامک سنٹر پر فائرنگ کردی جس میں تین افراد اپنی زندگیوں سے محروم ہوئے۔ اس واقعہ کو لے کر ساری مسلم برادری خوف زدہ ہوگئی۔ دوسری جانب حکام اس واقعہ کو نفرت پر مبنی جرم قرار دے کر مختلف زاویوں سے اس کی تحقیقات کررہے ہیں جبکہ میڈیا رپورٹس کا جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ دونوں حملہ آور نوجوان دائیں بازو اور سفید فام برتری کے نظریات سے آن لائن متاثر ہوئے تھے۔ ان کے اذہان و قلوب میں مسلمانوں کے تئیں شدید نفرت پیدا ہوگئی تھی، ویسے بھی دہشت گردانہ واقعات میں ملوث نوجوانوں کے پس منظر اور ان کی کارروائیوں کا جائزہ لیا جائے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ اکثر نوجوان آن لائن پھیلائے جانے والے نفرت انگیز مواد سے بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ جہاں تک امریکی مسلم برادری کا سوال ہے، مذکورہ واقعہ سے وہ شدید خوف اور صدمہ میں مبتلا ہوگئی ہے۔ بہت سے لوگوں کا یہی پوچھنا تھا کہ آیا یہ دہشت گردی و انتہا پسندی کا ایک الگ تھلگ واقعہ تھا یا امریکہ میں اسلاموفوبیا کے ایک نئے اور زیادہ پرتشدد ایک نئے دور اور مرحلہ کی شروعات؟ آپ کو بتادیں کہ مسجد کے احاطہ میں ایک اسکول بھی چلایا جاتا ہے اور فائرنگ واقعہ کے وقت اسکول میں 140 بجے موجود تھے۔ حالیہ عرصہ کے دوران امریکہ میں عبادت گاہوں کو نفرت اور دہشت کا نشانہ بنانے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ اس خطرناک رجحان پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ یہ رجحان کس قدر خطرناک اور باعث تشویش ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایف بی آئی نے اس قسم کے خطرات سے نمٹنے کیلئے ایک پروگرام بھی شروع کیا ۔ نفرت کے اس پرتشدد واقعہ میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں میں 51 سالہ سکیورٹی گارڈ امین عبداللہ بھی شامل ہیں جنہوں نے بڑی شجاعت و بہادری کے ساتھ حملہ آوروں کا مقابلہ کرتے ہوئے بہت بڑے جانی نقصان کو ٹال دیا ورنہ بہت زیادہ جانی نقصان ہوتا۔ سان ڈیاگو اسلامک سنٹر ؍ مسجد کے 78 سالہ مصلی منصور کنرہا اور 57 سالہ اوبیر ڈرائیور نادر عوض نے بھی جام شہادت نوش کیا۔ ان تینوں کو یقینا ہیروز کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ کمیونٹی کے ستون کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ کئی ایک میڈیا رپورٹس میں حملہ آوروں کی 17 سالہ کین لی کلارک اور 18 سالہ سیلیب لیام واز کپور کی حیثیت سے شناخت کی گئی۔ بعد میں دونوں کی نعشیں دستیاب ہوئیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ حملے کے فوری بعد دونوں نے خود کو گولی مارکر خودکشی کرلی۔ مجھے حیرت اس بات کی ہے کہ میڈیا نے ان دونوں کو خودکش دہشت گرد قرار دینے سے گریز کیا۔ یقینا وہ دونوں واضح طور پر اپنی کارروائی کے نتائئج کا سامنا کرنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ ان کی کم عمری اس خوفناک واقعہ کو مزید تشویشناک بنادیتی ہے۔ اسلام کے خلاف سوشیل میڈیا کارکنوں اور نمائندوں کی جانب سے پھیلائی جانے والی نفرت نوجوان امریکیوں کے اذہان و قلوب میں زہر کی طرح اثر کررہی ہے۔ انہیں امریکی خواب کے حصول سے دور اور دہشت گردی کی طرف بڑی تیزی سے ڈھکیل رہی ہے۔ میری یادوں میں آج بھی مسجد کے اس بلند منبر اور اس منبر سے مسجد کا پرنور منظر محفوظ ہے۔ یہ 9/11 کے کچھ ہی سال بعد کی بات ہے اور میرے خطبہ کا ایک حصہ امریکہ میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے خلاف تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ خطبہ جمعہ کے بعد برادری کے بے شمار لوگوں نے مجھ سے ملاقات کی اور اسلاموفوبیا جیسے مسئلہ کو اٹھانے پر میرا شکریہ ادا کیا۔ ان لوگوں کا یہی کہنا تھا کہ اسلاموفوبیا امریکہ میں بڑی تیزی کے ساتھ پھیل رہا اور اس خطرناک رجحان کو روکنا بہت ضروری ہے۔ سال 2006ء میں جب میں بروکنگز انسٹیٹیوشن میں تھا، میں نے امریکہ میں اسلاموفوبیا کے خلاف جدوجہد پر ہونے والی پہلی بڑی کانفرنسوں میں سے ایک کا انعقاد عمل میں لایا تھا۔ حالانکہ اس وقت امریکی حکومت کے نمائندے اسلاموفوبیا نام کی کسی چیز کی موجودگی سے انکار کررہے تھے۔ اگرچہ آج امریکی حکومت کا کوئی بھی رکن کوئی بھی نمائندہ اسلاموفوبیا کے وجود سے انکار نہیں کرتا لیکن افسوس کے کچھ لوگ اسلاموفوبیا کی جیتی جاگتی مثال بن چکے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضڑوری ہوگا کہ امریکی کانگریس کے ارکان رینڈی فائن، چپ رائے، اینڈی اوگلس، برانڈن گل اور کیتھ سیلف نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف فحش، نفرت انگیز، توہین آمیز اور غیرانسانی تبصرے کئے یا اس قسم کے ناپسندیدہ بیانات کی تائید کی ہے۔ وہ صرف تعصب و جانبداری کا اظہار نہیں کرتے بلکہ اسے جائز بھی ٹھہراتے ہیں۔ ٹیکساس کے گورنر آر گریک اباٹ نے بھی ایسی نفرت انگیز اور توہین آمیز تقاریر کی جس پر اعتراض کرتے ہوئے امریکی مسلمانوں نے اسے اسلاموفوبیان قرار دیا جس کے نتیجہ میں مقدمہ بازی کا سلسلہ چلا پھر دفتر گورنر اور مسلم کمیونٹی کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے۔ ان واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سیاست داں بظاہر رائے دہندوں سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی ملک کے قوانین کے تعلق سے ان میں خوف پایا جاتا ہے۔ آپ ہی اندازہ کرلیجئے کہ جب منتخب رہنما کھلے عام نفرت پھلائیں اور وہ بھی بڑی شدت کے ساتھ تو پھر کیا اسلاموفوبیا کا زہر سارے ملک میں نہیں پھیلے گا؟