امریکہ میں سرد بازاری سے حیدرآباد کے آئی ٹی ہب کو فائدہ ہوسکتا ہے

   

حیدرآباد 27 نومبر (سیاست نیوز) اگر امریکہ معاشی سست روی سے متاثر ہوا تو جیسا کہ پیش قیاسی کی جارہی ہے، اس سے عمومی طور پر آئی ٹی شعبہ کی ترقی میں انحطاط آئے گا۔ تاہم اس سے ہندوستان کی بعض کمپنیوں بالخصوص حیدرآباد، بنگلورو اور پونے کے آئی ٹی کمپنیوں کے لئے کافی فائدہ ہوسکتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ کئی کمپنیاں کام کو آؤٹ سورس کرسکتی ہیں اس سے ہندوستان بشمول حیدرآباد کو زیادہ کام آئے گا۔ حیدرآباد سافٹ ویر انٹرپرائزس اسوسی ایشن کی صدر اور انفوسیس حیدرآباد ایس ای زیڈ سنٹر ہیڈ، منیشا سابو کے مطابق انیمیشن، سیمی کنڈکٹرس اور نئے شعبوں جیسے موبیلیٹی ویالی میں مواقع ہوں گے۔ حیدرآباد، آئی ٹی اینڈ اسٹارٹ اپ یکو سسٹم کی موجودگی کے باعث پُرکشش بنا رہے گا۔ کمپنیوں کو یہاں ضروری ماہرین کی خدمات حاصل کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ تلنگانہ اکیڈیمی آف اسکلس اینڈ نالج کی جانب سے بھی انڈسٹری کی مانگ پورا کرنے کے لئے رٹرننگ دینے کا کام کیا جارہا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اس کے علاوہ ریاستی حکومت مختلف ترقیاتی کام شروع کررہی ہے جس سے معیاری انفراسٹرکچر دستیاب ہوگا جو ترقی کے لئے بڑی اہمیت کا حامل ہوگا اور Hysea کی جانب سے بھی اس کے ٹیلنٹ مینجمنٹ کاوشوں کے سلسلہ میں کالجس کے ساتھ کام کیا جارہا ہے۔ مسز سابو نے کہاکہ ’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہاں (حیدرآباد میں) زیادہ کمپنیاں ان کے گلوبل کپیبلٹی سنٹرس (GCC) قائم کررہی ہیں۔ کئی کمپنیوں نے حالیہ عرصہ میں یہاں ان کے جی سی سیز کے قیام کا اعلان کرچکی ہیں۔ یہ سنٹرس گلوبل پراڈکٹس اور سلیوشنس تیار کرتے ہیں۔ ان میں یمبیڈیڈ ٹیکنالوجیز کی کلیدی اہمیت ہوگی کیوں کہ کنکٹیڈ ڈیوائسیس کا اضافہ ہورہا ہے، وہ سکیورٹی اور دوسرے سگمنٹس پر بھی توجہ دیں گے‘‘۔ تلنگانہ کے وزیر آئی ٹی کے ٹی راما راؤ کے مطابق نلگنڈہ میں آئی ٹی ہب سے 3000 ملازمتیں فراہم ہوں گی۔ نیز کے ٹی آر نے تلنگانہ میں آئی ٹی ہبس کو وسعت دینے کا وعدہ کیا ہے۔ منیشا سابو نے کہاکہ ’’آؤٹ سورسنگ بڑے پیمانہ پر ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر کمپنیز کو کام کا ایک حصہ تفویض کرنے کے بجائے ہم پورے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کے لئے آؤٹ سورس کے امکان کو دیکھتے ہیں‘‘۔ راجیو چلاکا، صدر تلنگانہ وی ایف ایکس انیمیشن اینڈ گیمنگ اسوسی ایشن اور فاؤنڈر اینڈ سی ای او گرین گولڈ انیمیشنس حیدرآباد نے کہاکہ شہر کو ورک فرم ہوم کلچر سے بھی فائدہ ہورہا ہے جو دیگر آف شور مارکٹس میں اب بھی پایا جاتا ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ وہ ابھی آفسیس سے کام نہیں کررہے ہیں بعض آرڈرس ہندوستانی شہروں جیسے حیدرآباد کو آؤٹ سورس کئے جارہے ہیں۔ ان کے مطابق حیدرآباد کی کمپنیوں میں ملازمین کی اکثریت پھر سے ان کے دفاتر میں کام کرنا شروع کردیا ہے۔ ٹربوہائر کے سی ای او دیپک اگروال نے کہاکہ ’’اگر امریکہ معاشی انحطاط کا شکار ہوا تو آئی ٹی کمپنیوں کی ترقی متاثر ہوگی۔ تاہم اس سے ہندوستان کو آؤٹ سورسنگ میں اضافہ ہوگا‘‘۔ آؤٹ سورسنگ سے آفس جگہ کے لئے مانگ میں بھی اضافہ ہوگا جس سے رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کو فائدہ ہوگا۔