نیویارک : امریکہ کی ریاست نیو جرسی میں رہنے والے ،فانگسو چاؤ، ، 1989 میں موسم بہار کا وہ مایوس کن دن بہت اچھی طرح سے یاد کرتے ہیں جب ٹینک بیجنگ کے تیانا مین اسکوائر میں داخل ہوئے۔ جب کمیونسٹ فوجیں جمہوریت کی حمایت میں احتجاج کو ختم کرنے کے لیے داخل ہوئیں تو یونیورسٹی کے طلباء اور دیگر کو مارا پیٹا گیا اور خون بہایا گیا۔ سینکڑوں اور ممکنہ طور پر ہزاروں لوگ مر گئے۔ چین میں ثقافتی انقلاب کے بعد یہ سب سے سنگین بغاوت تھی، طلبہ کی زیرقیادت یہ تحریک کامیاب نہ ہوسکی اور بالآخر اس وقت کچل دی گئی جب پیپلز لبریشن آرمی ٹینکوں اور مسلح دستوں کے ساتھ داخل ہوئی جنہوں نے مظاہرین کو زبردستی ہٹا دیا۔ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ کتنے نوجوان اس میں ہلاک ہوئے کریک ڈاؤن کے بعد چین چھوڑنے والے فانگسو چاؤ اب نیو جرسی میں رہتے ہیں اور برسوں سے چین کی مبینہ ’بربریت‘ کے ثبوت جمع کر رہے ہیں۔ نیویارک شہر کی ایک عمارت کی چوتھی منزل پر ہر سال چار جون کو ان یادگاری اشیاء کی نمائش کی جاتی ہے ،جن میں — خون آلود تولیے، خون سے بھیگے ہوئے بینرز ،، اخباری تراشے، خطوط اور ایک خیمہ جو طلباء مظاہرین نے اپنے سات ہفتوں کے مظاہرے کے دوران استعمال کیا تھا ، شامل ہیں۔