سوشیل میڈیا پر کہرام ، والدین امیگریشن حکام کے رویہ سے تشویش میں مبتلا
حیدرآباد۔10۔جون(سیاست نیوز) امریکی ائیر پورٹ نیویارک پر ہتھکڑیوں میں بند پولیس کی اذیت کا شکار ہندوستانی نوجوان کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر کہرام مچادیا ہے اور ہندستانی طلبہ کے ساتھ امریکہ میں کئے جانے والے سلوک پر ملک بھر میں شدید برہمی پائی جانے لگی ہے۔ ہندوستانی نژاد امریکی شہری کنال جین نے جو ویڈیو اپنے X اکاؤنٹ کے ذریعہ پوسٹ کی ہے اس ویڈیو میں دکھا گیا ہے کہ کس طرح امریکی امیگریشن حکام ہندستانی طالب علم کے ساتھ سلوک کر رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق نوجوان کے لہجہ سے محسوس ہورہا تھا کہ نوجوان کا تعلق ہندستانی ریاست ’ہریانہ ‘ سے ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ مذکورہ نوجوان کو ملک واپس بھیجنے کے لئے اسی پرواز میں روانہ کیا جانا تھا جس پرواز سے کنال جین واپس ہورہے تھے لیکن انہیں موصولہ اطلاع کے مطابق اس نوجوان کو طیارے میں نہیں سوار کیاگیا۔نیویارک ائیر پورٹ پر جب اس نوجوانوں کو ہتھکڑیوں میں باندھ کررکھا گیا تھا اور اسے پولیس اور امیگریشن حکام کی اذیت کا سامنا تھا نوجوان مسلسل یہ کہہ رہا تھا کہ میں پاگل نہیں ہوں لیکن یہ لوگ مجھے پاگل قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔کنال جین نے اپنے X کھاتہ پر پوسٹ کی گئی اپیل میں وزارت خارجہ اور سفارتی عہدیداروں سے اپیل کی تھی کہ اس نوجوان کی فوری طور پر مدد کرتے ہوئے اسے واپس لانے کے اقدامات کئے جائیں۔محکمہ خارجہ کے مطابق امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کے اقتدار حاصل کرنے اور نئی پالیسیوں پر عمل آوری کے بعدجنوری سے اب تک امریکی امیگریشن حکام نے 1080 ہندستانی شہریوں کو امریکہ سے واپس روانہ کیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ امریکی حکام نے جس انداز میں اس نوجوان کو حراست میں رکھا تھا یہ کوئی نئی بات نہیں رہی کیونکہ امریکہ کے بیشتر ائیر پورٹس پر روزانہ کے اساس پر امریکی جامعات میں داخلہ حاصل کرنے کے بعد پہنچنے والے ہندستانی نوجوانوں کے ساتھ اس طرح کے سلوک کی شکایات موصول ہورہی ہیں اور ہر دن امریکہ پہنچنے والوں میں4تا5 نوجوانوں کو امیگریشن حکام کی جانب سے امریکہ میں داخل ہونے سے روکتے ہوئے انہیں واپس روانہ کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔امریکی حکام کے مطابق ویزوں کے حصول میں دھاندلیوں کی جانچ کے بعد یہ اقدامات کئے جا رہے ہیں جبکہ ویزا حاصل کرنے کے بعد امریکہ پہنچنے والے طلبہ کے ساتھ امریکی حکام کا سلوک ہندستانی والدین کو تشویش کا شکار بنانے لگا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ امریکی ائیر پورٹس پر پیش آنے والے ان واقعات کے کئی ہندستانی شاہد ہونے کے باوجود ان معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتے اسی لئے وہ صرف ہندستانی سفارتی عہدیداروں سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے امریکہ پہنچنے والے نوجوانوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں تاکہ ہندستانی طلبہ کو اس طرح اذیت ناک صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے مقصد کو حاصل کرسکیں۔3