پوٹن کو نہیں پتا کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ، پہلے سے زیادہ تنہا
واشنگٹن : امریکی صدر جوبائیڈن نے ا سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کہا ہے کہ امریکہ ناٹو رکن ممالک کی انچ انچ زمین کا دفاع کرے گا، 6روز قبل پوٹن نے آزاد دنیا کی بنیادیں ہلانے کی کوشش کی۔ امریکہ ایوکرین کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعدناٹواتحاد دنیا میں امن و استحکام کے لئے قائم کیا گیا۔آج آزاد دنیا روسی صدر کو جوابدہ ٹھہرا رہی ہے ۔ ناٹوممالک کے تحفظ کے لیے امریکی افواج بھیج رہے ہیں۔ یورپ روس کے لکژری اپارٹمنٹس اور جیٹس کو منجمد کرے۔انہوں نے کہا کہ روس کے جھوٹ کا مقابلہ سچ کے ساتھ کیا۔یوکرین کو سپورٹ کرتے رہیں گے۔جب تک وہ اپنے دفاع کے لیے کھڑا ہے۔پوٹن نے یورپ کو تقسیم کرنے کی کوشش کی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد ناٹو اتحاد دنیا میں امن و استحکام کے لیے قائم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پوٹن کو نہیں پتہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، کانگریس یوکرین کے لیے مزید اسلحہ اور امداد کی منظوری دے۔امریکہ اوراتحادی اپنی سرحدوں کا دفاع پوری قوت کے ساتھ کریں گے، جمہوریت اور آمریت کی جنگ میں جمہوریت کی جیت ہوتی ہے، یقینی بنائیں گے کہ امریکی پابندیوں سے صرف روس کو نقصان پہنچے۔ روسی کرنسی روبل اپنی قدر40 فیصد تک کھو چکی ہے۔انہوںنے کہا کہ روس کا یوکرین پر حملہ سوچا سمجھا منصوبہ تھا،پیوٹن نے بلا اشتعال حملہ کیا اور سفارتی کوششیں ناکام کیں، پیوٹن کا خیال تھا کہ مغرب اور ناٹوجواب نہیں دیں گے۔ ہم نے روس کا مقابلہ کرنے کے لیے آزادی پسند اقوام کا اتحاد بنایا۔ ہم روس کو تکلیف پہنچا رہے ہیں۔یوکرین کے عوام بڑے حوصلے کیساتھ لڑ رہے ہیں۔ پوٹن کو میدان جنگ میں وقتی فائدہ ہو سکتا ہے لیکن طویل عرصے میں اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ بائیڈن نے روس کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوٹن کو نہیں پتا کہ اس کہ ساتھ کیا ہونے والا ہے؟ اسے اس کی بڑی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ آزادی ہمیشہ ظلم پر فتح حاصل کرے گی۔صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ پوٹن نے سوچا وہ آزاد دنیا کوجھکا سکتا ہے پر اُن کااندازہ غلط نکلا۔ پوٹن کو اس طاقت کی دیوار کا سامنا کرنا پڑا جس کا اس نے تصور بھی نہ کیا تھا،انہوں نے کہا کہ صدر زیلنسکی سے لے کر ہر یوکرینی کے عزم نے دنیا کومتاثر کیا، یوکرینی طلبہ سے لے کر ریٹائرڈ اساتذہ سب ہی سپاہی بنے ہوئے ہیں۔ پوٹن کا خیال تھا کہ مغرب اور ناٹوجواب نہیں دیں گے ،ہم نے سچ کے ساتھ روس کے جھوٹ کا مقابلہ کیا۔پوٹن اب پہلے سے کہیں زیادہ دنیا میں تنہا ہے، آج آزاد دنیا روسی صدر کوجواب دہ ٹھہرا رہی ہے،ان کا کہنا تھا کہ روس پر سخت اقتصادی پابندیاں نافذ کررہے ہیں، بڑے روسی بینکوں کو بین الاقوامی مالیاتی نظام سے کاٹ رہے ہیں، ہم روس کی ٹیکنالوجی تک رسائی کو روک رہے ہیں۔جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ ہمارے اقدامات روس کی اقتصادی طاقت کوختم کردیں گے۔
فوج یوکرین نہ بھیجنے بائیڈن کا اعلان
واشنگٹن : امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے اعلان کیا ہیکہ واشنگٹن روس کے مقابلہ کیلئے اپنی افواج کو یوکرین نہیں بھیجے گا۔ تاہم روسی پروازوں کیلئے امریکی فضائی حدود کم کی جارہی ہے۔ امریکی کانگریس سے اپنے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران صدر بائیڈن نے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن کو خبردار کیا کہ انہیں یوکرین پر حملہ کی قیمت چکانی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی روسی پروازوں کیلئے فضائی حدود بند کرکے روس کو مزید الگ تھلگ کردیں گے۔
بائیڈن اور زیلنسکی کی فون پر بات
واشنگٹن : امریکہ کے صدر جو بائیڈن اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان فون پر بات چیت ہوئی ہے۔ ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر کا یوکرینی صدر سے بات چیت کا سلسلہ 30 منٹ تک جاری رہا۔یوکرین کے صدر کے مطابق امریکی صدر سے روس پر پابندیوں اور یوکرین کو دفاعی امداد فراہم کرنے سے متعلق بات چیت ہوئی۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے یوروپی پارلیمنٹ سے ویڈیو خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ یوکرین کے شہر خارکیف پر روسی حملے ریاستی دہشت گردی ہیں۔
صدر بائیڈن کا 30 ملین بیارل تیل جاری کرنیکا اعلان
واشنگٹن : امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہیکہ روسی حملہ کے بعد مارکیٹ میں استحکام کیلئے امریکہ اسٹریٹجک ذخائر سے 30 ملین بیارل تیل جاری کریگا۔امریکی صدر جوبائیڈن نے روسی صدر پیوٹن کو روسی آمر قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے روس سے جنگ نہ لڑنے کا اعلان کیا۔ بائیڈن نے کہا کہ امریکی افواج یوکرین میں روس سے لڑائی نہیں کریں گی، امریکی اور اتحادی اپنی سرحدوں کی حفاظت پوری طاقت کیساتھ کریں گے ۔امریکی صدرنے اپنے پہلے اسٹیٹ آف یونین خطاب میں کہا کہ پیوٹن دنیا میں تنہا ہوچکے ہیں، آمر جب سبق نہیں سیکھتے تو وہ مزید افراتفری پھیلاتے ہیں، ہم نے اپنی تاریخ سے یہی سبق سیکھا ہے ۔جوبائیڈن نے یوکرین پر حملے کی مذمت کی اور روسی پروازوں کیلئے امریکی فضائی حدود بند کرنے کا بھی اعلان کیا، صدر بائیڈن نے اپنی تقریر میں ناٹو اتحاد کی تعریف کی اور کہاکہ پیوٹن کا یوکرین پر حملہ کرنے کا منصوبہ سوچا سمجھا تھا۔
امریکی صدر نے کہاکہ پیوٹن نے سفارتی کوشش کو مسترد کیا،وہ سمجھتے ہیں کہ مغرب اور ناٹو اس پر ردعمل نہیں دیں گے ،پیوٹن یہ بھی سمجھتے ہیں کہ وہ ہماری صفوں میں تفریق پیدا کرسکتے ہیں۔ خطاب میں بائیڈن نے کہا کہ امریکہ یوکرینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے ، روسی اسٹاک مارکیٹ میں 40 فیصد تک گراوٹ آچکی ہے ، ہم یوکرین کو سپورٹ کرتے رہیں گے جب تک وہ اپنے دفاع کے لیے کھڑا ہے ۔ بائیڈن نے کہا کہ ہم نے روس کے جھوٹ کا مقابلہ سچ کے ساتھ کیا، کانگریس یوکرین کے لیے مزید اسلحہ اورامداد کی منظوری دے ، امریکہ اسٹریٹجک ذخائر سے 30 ملین بیرل تیل جاری کرے گا۔