امریکہ نے امیگرنٹ ویزے روک دیئے،لاکھوں افراد متاثر

,

   

عارضی ویزا کے ذریعہ داخلہ اور بعد میں مستقل قیام کیلئے درخواست پر سخت جانچ پڑتال ہوگی: امریکی حکام

واشنگٹن:27اگست ( ایجنسیز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دنیا بھر سے امیگرنٹ ویزا درخواستوں کی کارروائی عارضی طور پر روک دی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ اقدام قونصلر افسران کی خصوصی اور تفصیلی تربیت کے لیے کیا گیا ہے، تاہم اس سے امریکہ میں مستقل طور پر منتقل ہونے کے خواہش مند افراد کی ویزا کارروائی متاثر ہوگئی ہے۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں موجودہ انتظامیہ امیگرنٹ ویزا درخواست گزاروں کی مزید سخت جانچ پڑتال کرنا چاہتی ہے تاکہ ایسے افراد کو ویزا دینے سے روکا جاسکے جن کے بارے میں حکام کو خدشہ ہو کہ وہ مستقبل میں امریکی حکومت کی مالی معاونت یا عوامی سہولیات پر انحصار کرسکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق امریکہ کے مختلف سفارتخانوں اور قونصل خانوں میں پہلے سے طے شدہ انٹرویوز رکھنے والے بعض درخواست گزاروں کو ای میل کے ذریعے آگاہ کیا گیا ہے کہ ان کے انٹرویوز دوبارہ مقرر کیے جائیں گے۔ انہیں نئی تاریخ اور وقت کے بارے میں بعد میں اطلاع دی جائے گی۔امریکی محکمہ خارجہ نے واضح نہیں کیا کہ ویزا انٹرویوز اور درخواستوں کی معمول کی کارروائی کب دوبارہ شروع ہوگی۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان کے مطابق قونصلر افسران کی تفصیلی تربیت کے دوران ویزا سروسز کے لیے مقررہ اپائنٹمنٹس میں تبدیلی کی جائے گی۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تربیتی پروگرام کا مقصد دنیا بھر میں موجود قونصلر افسران کو ہر ویزا درخواست گزار کی جامع اور یکساں بنیاد پر جانچ پڑتال کے لیے تیار کرنا ہے۔امریکہ میں امیگریشن سے متعلق پالیسیوں پر کام کرنے والے ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے ایسے درخواست گزار بھی متاثر ہوسکتے ہیں جو ویزا انٹرویو کے لیے پہلے ہی ہزاروں ڈالر خرچ کرچکے ہیں اور اپنے سفر اور دیگر انتظامات مکمل کرچکے۔ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ آنے والے غیر ملکیوں کے حوالے سے اپنی پالیسی مزید سخت کردی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ویزا حاصل کرنا ایک ’’استحقاق‘‘ ہے، کوئی بنیادی حق نہیں۔امریکی حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ایسے غیر ملکیوں کے ویزے منسوخ کیے جاسکتے ہیں جو سیاحت یا کاروبار کے لیے امریکہ آئے تھے لیکن بعد میں مستقل قیام کے لیے پناہ کی درخواست دے دیتے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اگر کوئی شخص امریکہ میں داخل ہونے کے لیے عارضی ویزا حاصل کرتے وقت اپنی اصل نیت چھپاتا ہے اور بعد میں مستقل قیام کے لیے پناہ کی درخواست دیتا ہے تو اسے ویزا قوانین کی خلاف ورزی تصور کیا جاسکتا ہے۔امریکی حکام نے بتایا ہے کہ محکمہ خارجہ اور محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی ایسے معاملات کی نشاندہی کے لیے مل کر کام کررہے ہیں۔
حکام کے مطابق ویزے منسوخ کرنے کا عمل مرحلہ وار جاری رہے گا اور اس کی تعداد میں تبدیلی ممکن ہے۔وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ تقریباً 2 لاکھ ویزے متاثر ہوسکتے ہیں اور اسے امریکی تاریخ میں ویزے منسوخ کرنے کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیا ہے۔ تاہم محکمہ خارجہ نے اس تعداد کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔