امریکہ نے کہاکہ اسرائیلی کی بازآبادکاریاں اب غیر قانونی نہیں مانی جائیں گی‘ فلسطینی عوام کی برہمی

,

   

نتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ بازآبادکاریوں کے متعلق پالیسی ”تاریخی غلطی میں سدھار“ پر تبدیل

نیویارک۔ مذکورہ ٹرمپ انتظامیہ نے نومبر18کے روز کہاکہ اسرائیل کی باز آبادکاریوں کو اب غیر قانونی نہیں مانا جائے گا اور مغربی کنارہ میں کوئی بھی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے‘

امریکہ اپنے چاردہوں کی پالیسی کو تبدیل کرتے ہوئے فلسطین کی جانب سے ریاستی درجہ حاصل کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کاکام کیاہے۔

سکریٹری برائے اسٹیٹ مائیک پامپیونے اعلان کیا کہ مذکورہ امریکہ1978کے اس اعلان سے انکار کرتے ہوئے یہ کہہ رہے کہ رہائشی آبادیاں مقبوضہ علاقے میں بین الاقوامی قانون کے مطابق ہیں۔

اسرائیل قائدین نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیاہے وہیں فلسطین اور دیگر ممالک نے یہ انتباہ دیاہے کہ وسیع تر معاہدے کا موقع گنوادیاگیا ہے۔

ریاستی محکمہ میں رپورٹرس کو پامپیو نے بتایا کہ مذکورہ ٹرمپ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ کوئی بھی قانونی سوال کو بازآبادکاری کے متعلق ہے اس کو اسرائیلی عدالت میں حل کیاجانا چاہئے اور انہیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قراردینے امن معاہدے پر گفت شنید کے عمل میں ہم مصروف ہیں۔

یہ تبدیلی مذکورہ انتظامیہ کی سخت گیر اسرائیلی کے سامنے فلسطینیوں کی ریاستی درجہ حاصل کرنے کی پہلے کے عین برعکس بے بسی دیکھائی دے رہی ہے۔

اسی طرح کا فیصلہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی درالحکومت یروشلم کو تسلیم کرنے کے متعلق لیاتھا اور امریکی سفارت خانے کو اسی شہر میں منتقل کرتے ہوئے واشنگٹن میں موجود فلسطینی سفارتی دفتر کو بند کرادیاتھا۔

فلسطینی صدر محمود عبا س کے ایک ترجمان نبیل ابو ردیناح نے کہاکہ مذکورہ امریکہ انتظامیہ نے مستقبل میں امن کی کسی بھی کوشش میں اپنی صداقت کھوچکا ہے۔

امریکہ کے اس بیان کے پیش نظر مذکورہ یوروپی یونین نے امکانی نقصان کے متعلق انتباہ دیاہے کہ جس میں امریکہ کا ذکر نہیں کیاہے۔

تمام بازآبادکاری کی سرگرمیاں غیر قانونی ہیں اور عالمی قوانین کے خلاف اور دوریاستی حل کی کوشش میں رکاوٹ ہیں اور اس سے امن کو سنگین خطرہ لاحق ہوجائے گا۔