امریکہ کیساتھ باہمی تجارتی معاہدہ پر پیشرفت جاری

   

نئی دہلی: حکومت نے آج کہا کہ ہندوستان اور امریکہ باہمی تجارت میں ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے ایک کثیر سیکٹر دو طرفہ تجارتی معاہدے (بی ٹی اے )، ٹرمپ انتظامیہ کے ٹیرف اقدامات کے اثرات کو کم کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان سپلائی چین کے انضمام کو فعال بنانے کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے یہاں ایک باقاعدہ بریفنگ میں امریکی انتظامیہ کے ٹیرف اقدامات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ “فروری 2025 میں وزیر اعظم کے دورہ امریکہ کے دوران دونوں فریقوں نے باہمی طور پر فائدہ مند، کثیر سیکٹر دو طرفہ تجارتی معاہدے (بی ٹی اے ) پر بات چیت کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔” تجارت اور صنعت کے وزیر پیوش گوئل نے امریکہ کا دورہ کیا ہے اور اپنے ہم منصبوں سے ملاقات کی ہے ۔ جیسوال نے کہا کہ دونوں حکومتیں ملٹی سیکٹر دو طرفہ تجارتی معاہدے پر بات چیت کو آگے بڑھانے کے عمل میں ہیں۔ بی ٹی اے کے ذریعے ہمارا مقصد اشیا اور خدمات میں ہندوستان۔ امریکہ کی دو طرفہ تجارت کو مضبوط اور گہرا کرنا، مارکیٹ تک رسائی کو بڑھانا، ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو کم کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان سپلائی چین کے انضمام کو گہرا کرنا ہے ۔ 26 نومبر 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملے کے ماسٹر مائنڈ، دہشت گرد تہور رانا کی حوالگی کے بارے میں پوچھے جانے پر ترجمان نے کہاکہ “آپ نے رانا کی حوالگی کے بارے میں صدر ٹرمپ کے تبصرے دیکھے ہوں گے ۔ مشترکہ بیان بھی اسی جذبے کی عکاسی کرتا ہے ۔ ہم امریکی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ ہندوستان کو حوالگی کی اجازت حاصل کرنے کے لیے ضروری رسمی کارروائیوں کو مکمل کیا جا سکے ۔