امریکہ کی مشرق وسطیٰ پالیسی اسرائیل کے تابع نہیں ہونی چاہیئے

   

واشنگٹن:16 ستمبر ( یو این آئی ) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں اپنی خارجہ پالیسی اپنے قومی مفادات کے مطابق طے کرنی چاہیے اور اسے اسرائیل کی پالیسی کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔جے ڈی وینس نے ایک کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ اہم شراکت داری رکھتا ہے، خصوصاً فوجی ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں، تاہم دونوں ممالک کے مفادات ہر معاملے میں یکساں نہیں ہوسکتے۔امریکی نائب صدر نے کہا کہ واشنگٹن اسرائیل کے ساتھ ان معاملات میں تعاون کرے گا جہاں دونوں ممالک کے مفادات مشترک ہوں، لیکن اختلاف کی صورت میں امریکہ اپنی پالیسی خود طے کرے گا۔ ان کے مطابق امریکہ کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد امریکی مفادات کا تحفظ ہونا چاہیے۔وینس نے اس مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے امریکہ کے نیٹو اتحادیوں سے تعلقات کی مثال بھی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کے ساتھ مضبوط شراکت داری کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ اپنی یورپی خارجہ پالیسی کو نیٹو کے تابع کردے، اسی طرح مشرق وسطیٰ میں بھی امریکی پالیسی اسرائیل کے تابع نہیں ہونی چاہیے۔ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث واشنگٹن کی اسرائیل سے متعلق پالیسی پر بھی بحث جاری ہے۔ وینس نے ماضی میں بھی کہا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی مفادات بعض معاملات میں مختلف ہوسکتے ہیں۔