کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنزکا سرکاری اسکول سسٹم کیخلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ
واشنگٹن۔7؍جون ( ایجنسیز) امریکہ کی معروف مسلم شہری حقوق تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے ورجینیا کے ایک بڑے سرکاری اسکول سسٹم کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ چار مسلم طلبہ کو ان کے مذہبی اور نسلی پس منظر کی بنیاد پر غیرقانونی طور پر سزا دی گئی۔مقدمہ میں الزام لگایا گیا ہے کہ ورجینیا کے فیئر فیکس کاؤنٹی پبلک اسکولز نے امریکہ کے معروف تعلیمی ادارے تھامس جیفرسن ہائی اسکول فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں زیر تعلیم مسلم طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا۔عدالتی دستاویزات کے مطابق معاملہ اکتوبر 2025 میں مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو سے شروع ہوا۔ ویڈیو میں طلبہ اپنے ساتھیوں سے ایسوسی ایشن کے اجلاس میں شرکت کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ انکار کی صورت میں دیگر طلبہ مزاحیہ انداز میں انہیں اٹھا کر لیجاتے دکھائی دیتے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ دیگر طلبہ تنظیموں نے بھی اسی نوعیت کی ویڈیوز بنائیں جن میں فرضی تشدد اور اسلحے کے مناظر شامل تھے لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔تنظیم کے مطابق مسلم طلبہ کے خلاف کارروائی اس وقت کی گئی جب کچھ سوشل میڈیا صارفین اور بیرونی حلقوں نے ویڈیو کو حماس کی حمایت اور 7 اکتوبر 2023 کے واقعات سے جوڑنے کی کوشش کی۔مقدمے میں کہا گیا ہے کہ اسکول انتظامیہ نے انہی الزامات کو بنیاد بنا کر طلبہ کو معطل کیا، ان پر یہود مخالف رویے کا الزام عائد کیا اور ان کے تعلیمی ریکارڈ میں تادیبی کارروائی درج کر دی۔تنظیم کی وکیل کیتھرین کیک نے کہا کہ مسلم طلبہ نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جو دیگر طلبہ تنظیموں سے مختلف ہو لیکن انہیں الگ نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ان کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع متاثر ہوئے۔تنظیم کے وکلاء کا مؤقف ہے کہ اسکول کی کارروائی امریکی آئین میں دی گئی آزادی اظہار، مساوی حقوق اور شہری حقوق کے وفاقی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق مقدمے کا فیصلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا مسلم طلبہ یہ ثابت کر پاتے ہیں کہ اسی نوعیت کے رویے پر غیر مسلم طلبہ کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ اگر عدالت مذہبی یا نسلی بنیاد پر امتیازی سلوک کے شواہد قبول کر لیتی ہے تو یہ مقدمہ امریکہ میں تعلیمی اداروں میں شہری حقوق سے متعلق اہم ترین مقدمات میں شمار ہو سکتا ہے۔درخواست میں طلبہ کے خلاف تادیبی ریکارڈ ختم کرنے، ہرجانے کی ادائیگی اور آئندہ ایسے اقدامات روکنے کے لیے عدالتی احکامات جاری کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔