میرے بچے کا نام بھارتی سائنسدان سے موسوم : ایلون مسک

   

واشنگٹن، /24 جولائی (ایجنسیز) ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایلون مسک نے خود پر لگنے والے نسل پرستی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی شریکِ حیات آدھی بھارتی ہیں اور ان کے چار بچوں میں سے ایک کا نام ایک معروف بھارتی طبیعیات دان کے نام پر رکھا گیا ہے، اس لیے انہیں نسل پرست قرار دینا حقیقت کے منافی ہے۔برطانوی جریدے دی اکنامسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب ایلون مسک سے کہا گیا کہ بعض لوگ انہیں “نسل پرست’’ قرار دیتے ہیں تو انہوں نے فوراً جواب دیتے ہوئے کہا، “میری شریکِ حیات آدھی بھارتی ہیں، ہمارے چار بچے ہیں اور ان میں سے ایک کا نام ایک مشہور بھارتی طبیعیات دان کے نام پر رکھا گیا ہے۔’’انہوں نے مزید کہا کہ ان کی کمپنیوں میں مختلف نسلوں اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں، اس لیے ان کے اداروں میں نسل پرستی کا کوئی تصور موجود نہیں۔انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ “مسلمانوں کے مخالف’’ ہیں، تو انہوں نے براہِ راست جواب دینے کے بجائے کہا کہ وہ ایسے افراد کے خلاف ہیں جو کسی ملک میں آ کر وہاں کے قوانین اور معاشرتی اقدار کے برعکس نظریات مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ تشدد، زیادتی اور قتل جیسے جرائم کے سخت مخالف ہیں اور مغربی معاشروں میں رائج قوانین کے منافی نظریات کی حمایت نہیں کرتے۔یورپی سیاست پر اثر انداز ہونے سے متعلق سوال پر ایلون مسک نے کہا کہ وہ مغربی دنیا کو ایک مشترکہ اکائی کے طور پر دیکھتے ہیں، اسی لیے ان معاملات پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔جب ان سے کہا گیا کہ بعض لوگ ان کے غیر معمولی اثر و رسوخ کی وجہ سے انہیں ناپسند کرتے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا کہ ممکن ہے کچھ لوگ واقعی انہیں پسند نہ کرتے ہوں، لیکن انہیں اس کی پروا نہیں۔
ان کے بقول، اگرچہ ناقدین موجود ہیں، تاہم سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کروڑوں افراد ان کی پیروی کرتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے حامیوں کی تعداد مخالفین سے کہیں زیادہ ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ایلون مسک نے تجویز دی کہ دنیا کی بڑی اے آئی کمپنیاں اپنے جدید ماڈلز کو عوام کے لیے جاری کرنے سے پہلے ایک دوسرے کے ذریعے پیئر ریویو کرائیں تاکہ ممکنہ خطرات اور خامیوں کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ بڑی اے آئی کمپنیوں کے درمیان ہر چند ہفتوں بعد باقاعدہ اجلاس ہونا چاہیے، جہاں سکیورٹی اور حفاظتی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے۔ ان کے مطابق اگر کوئی کمپنی نشاندہی کیے گئے خطرات کو دور کرنے میں ناکام رہے تو پھر حکومتوں کو مداخلت کرتے ہوئے مناسب کارروائی کرنی چاہیے۔