امریکی جی ایس پی سے ہندوستان کو ہٹانا باعث تشویش نہیں: گوئل

   

نئی دہلی،26جون(سیاست ڈاٹ کام)حکومت نے آج کہا کہ امریکہ کے ذریعہ کاروبار کے ‘ جنرل پرایوریٹی سسٹم(جی ایس پی)’ سے فائدہ اٹھانے والے ملکوں کی فہرست سے ہندوستان کو ہٹانا دراصل ہندوستانی معیشت کے مضبوط ہونے کی تصدیق ہے جو ہمارے لئے باعث فخر ہے اور اس سے ملک کے کاروبار پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ صنعت و کاروبار کے وزیر پیوش گوئل نے لوک سبھا میں امریکی انتظامیہ کے 31مئی کو کئے گئے فیصلے کے سلسلے میں پوچھے گئے سوالوں کے جواب میں یہ بات کہی۔انہوں نے ایک ضمنی سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ کے ذریعہ جی ایس پی سے فائدہ اٹھانے کی شکل میں ہندوستان کی رکنیت کو واپس لئے جانے سے ملک کے کاروباری منظر نامے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ جی ایس پی کا نظام تقریباً 45سال پہلے 1975میں شروع ہوا تھا جب امریکی انتظامیہ نے ترقی پذیر ملکوں کے کاروبار کو مدد دینے کے لئے یک طرفہ ترجیح دینے کی پہل کی تھی۔یہ پہل کسی ایک ملک کے لئے نہیں بلکہ سبھی ترقی پذیر ملکوں کے لئے تھی۔ پیوش گوئل نے کہا کہ ہندوستان کا امریکہ کو برآمدات 50ارب ڈالر سے زیادہ کا ہے جو ہندوستانی کرنسی میں تقریباً چارلاکھ کروڑ روپے سے کچھ زیادہ ہے ۔اس میں سے صرف چار فیصد کا حصہ ہی جی ایس پی کے فیصلے سے متاثر ہوگا جس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور ہندوستان پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا کیونکہ ہندوستانی صنعت اب بین الاقوامی سطح پر مقابلے کے قابل ہوگئیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی یہ سہولت ترقی پذیر اور غیرترقی شدہ ملکوں کے لئے تھی۔اگر اس نے ہندوستان کو اس نظام سے باہر کیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ ہماری معیشت کو مضبوط معیشت کے طورپر دیکھ رہا ہے ۔جب ہمیں اس کا براہ راست کوئی نقصان ہی نہیں ہے اور ہماری ساکھ کی مضبوطی کا ثبوت ہے تو یہ ہم سب کے لئے فخر کی بات ہے ۔ پیوش گوئل نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات بے حد مضبوط ہیں۔ ہندوستان اور امریکہ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری پر کاروباری مسئلوں کو حاوی نہیں ہونے دیں گے ۔امریکہ کے ساتھ ہندوستان کی اعلی سطحی بات چیت کا بندوبست ہے۔ آنے والے وقت میں دونوں ملکوں کے سفارتی اور کاروباری رشتے اور مضبوط ہوتے جائیں گے ۔