امریکی عدالت سے گوتم اڈانی اور دیگر افراد کو موقف پیش کرنے کی ہدایت

   

ہندوستانی نژاد امریکی عہدیدار کی جامع تحقیقات کے بعد ہی فردجرم عائد
حیدرآباد۔24۔نومبر(سیاست نیوز) امریکی عدالت کی جانب سے گوتم اڈانی اور دیگر 7 افراد کے خلاف ہندستانی عہدیداروں کو رشوت دینے کے متعلق فرد جرم عائد کئے جانے کے بعد امریکی عدالت نے تمام افراد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں اپنے موقف کو پیش کرنے کی ہدایت دی ہے اور کہا کہ اگر اندرون 60یوم گوتم اڈانی ان کے بھتیجے کے علاوہ دیگر افراد ان کے خلاف عائد کئے گئے فرد جرم کے متعلق وضاحت نہیں کرتے ہیں اور اپنا جواب عدالتی حکام کے پاس نہیں پہنچاتے ہیں تو ایسی صورت میں امریکی قوانین کے مطابق مقدمہ ان کے خلاف ہوگا اور فیصلہ ان کے خلاف جائے گا۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی عدالت کے توسط سے امریکی سیکوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی نوٹس 21نومبر کو گوتم اڈانی کی رہائش گاہ احمدآباد پہنچ چکی ہے اور انہیں60 یوم کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ اپنے موقف کو پیش کریں۔شمسی توانائی کے کنٹراکٹ کے حصول کے لئے اڈانی گروپ کی جانب سے دی جانے والی رشوت اور اس کے لئے امریکی سیکوریٹیز اینڈ ایکسچینج میں شامل کمپنیوں کی سرمایہ کاری کے استعمال کی شکایات موصول ہونے کے بعد شرو ع کی گئی تحقیقات کے دوران امریکی کمیشن نے اڈانی گروپ کے صدرنشین و ذمہ داروں کے خلاف فردجرم عائد کرتے ہوئے اس بات کی توثیق کی کہ ہندستانی حکام کو اڈانی گروپ نے رشوت دیتے ہوئے کنٹراکٹ حاصل کئے ہیں۔گوتم اڈانی اور دیگر کے خلاف عائد کئے گئے فرد جرم کے متعلق منظر عام پر آنے والی تفصیلات کے دوران اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ امریکی تحقیقاتی اداروں کی جانب سے 2022 میں اس تحقیقات کا آغاز کیاگیا تھا لیکن اس تحقیقات کے دوران کئی رکاوٹیں پیدا ہوئی لیکن اب امریکی عدالت نے اس سلسلہ میں فرد جرم عائد کرنے کے بعد اس میں پیشرفت کی ہدایت دی ہے۔امریکہ میں اڈانی گروپ کے خلاف الزامات کی تحقیقات کرنے والے ہندستانی نژاد امریکی عہدیدار ہیں جنہوں نے اڈانی گروپ کے خلاف موجود مواد کو اکٹھا کرتے ہوئے تحقیقات کی ہیں۔ان عہدیداروں میں کارگذار ڈائریکٹر اسٹاک ایکسچینج کمیشن مسٹر سنجے وادھوا کے علاوہ ڈی تیجل شاہ اسوسیٹ ریجنل ڈائریکٹر سیکیوریٹی اسٹاک ایکسچینج شامل ہیں جنہوں نے اس معاملہ کی جامع تحقیقات کرتے ہوئے امریکی قوانین کی خلاف ورزی کی نشاندہی کرتے ہوئے اڈانی گروپ کے خلاف عدالت میں شواہد پیش کرتے ہوئے فرد جرم عائد کروانے میں کلیدی کردار ادا کیاہے۔3