ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت برقرار رکھنے غیریقینی صورتحال کا شکار
دوحہ میں قطری ثالثوں کیساتھ مذاکرات جاری
دوحہ:یکم اکٹوبر( ایجنسیز)ایرانی مذاکرات کاروں نے ہفتہ کو دوحہ میں قطری ثالثوں کے ساتھ خلیج میں جاری جنگ کے خاتمہ کے ممکنہ راستوں پر بات چیت کی تاکہ کسی نئے فوجی تصادم کو روکا جا سکے۔مذاکرات سے باخبر ایک ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ سفارت کار امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ممکنہ نئے فوجی تصادم کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتہ کو کہا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ ایران پر نئے حملے کیے جائیں یا نہیں، تاہم وہ تنازعہ کے سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔ٹرمپ حالیہ ہفتوں میں ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی سے گریز کرتے رہے ہیں کیونکہ وسط مدتی انتخابات میں یہ طے ہونا ہے کہ آیا ان کی ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی معمولی اکثریت برقرار رکھ سکے گی یا نہیں۔دوحہ میں ہونے والے مذاکرات سے قبل جمعہ کو تہران میں ایرانی اور قطری نمائندوں کے درمیان 12 گھنٹے سے زائد طویل بات چیت ہوئی تھی۔ یہ سفارتی کوششیں واشنگٹن کے ساتھ مسلسل رابطوں اور ہم آہنگی کے ذریعہ آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔خطے کے ممالک اس امکان پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ ووٹنگ ختم ہونے کے بعد ٹرمپ دوبارہ فوجی حملے شروع کر سکتے ہیں۔ ایران متعدد بار کہہ چکا ہے کہ کسی بھی نئے حملے کی صورت میں وہ پڑوسی ممالک میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنائے گا۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ہفتہ کو ایک بیان میں مسلح افواج کو کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لیے مکمل تیاری کی ہدایت کی۔ بعد ازاں ایرانی فوج نے اعلان کیا کہ وہ اپنی جنگی تیاریوں کو مزید بہتر بنانے کے اقدامات کر رہی ہے۔خامنہ ای نے اپنے سرکاری ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ ’کسی بھی سطح یا نوعیت کے خطرے کا فوری، مؤثر اور جغرافیائی حدود سے آزاد جواب دیا جانا چاہیے۔‘انہوں نے کہا کہ اعلیٰ فوجی کمانڈروں نے خلیجی ساحلی علاقوں، آبنائے ہرمز، خلیج عمان اور ایران کی شمال مغربی و جنوب مشرقی سرحدوں پر بلند سطح کی تیاری سے آگاہ کیا ہے۔