گرفتار ملزم سے تعلقات رکھنے والے قائدین میں بے چینی ۔ سوشیل میڈیا سے تصاویر ہٹانے کوشاں
حیدرآباد 16 مئی (سیاست نیوز)گاڑیوں کے اسکام میں گرفتار بشارت احمد خان سے متعلق ملک بھر کے کئی سرکردہ اخبارات میں خبروں کی اشاعت و قومی ایجنسی ڈائرکٹوریٹ آف ریوینیو انٹلیجنس کی کاروائیوں کے بعد سیاسی قائدین میں خوف پیدا ہونے لگا ہے اور بشارت خان سے تعلقات رکھنے والے قائدین اپنے سوشل میڈیا سے بشارت کے ہمراہ تصاویر ہٹانے میں مصروف ہیں کیونکہ مختلف اخبارات اور میڈیا اداروں کی جانب سے بشارت خان کے متعلق تفصیلات کے حصول کی کوشش میں سیاسی قائدین کے ساتھ تصاویر کو حاصل کیا جانے لگا ہے۔بشارت احمد خان کے شہر ہی نہیںبلکہ تلنگانہ کے سرکردہ قائدین سے تعلقات اور ان کی سرمایہ کاری کی اطلاعات کے متعلق تفصیلات سے آگہی حاصل کرنے میں عوام کی دلچسپی میں اضافہ ہونے لگا ہے لیکن سوشل میڈیا پر 100 کروڑ کی درآمدات سے متعلق اس اسکام کی خبروں کو روکنے لاکھوں روپئے خرچ کئے جانے لگے ہیں اور فیس بک اور یوٹیوب چیانلس پر دباؤ ڈالتے ہوئے خبروں کی ترسیل کو روکا جانے لگا ہے جبکہ ملک بھر میں سرکردہ اخبارات اور میڈیا اداروں کی جانب سے اس خبرکو نمایاں طور پر پیش کرکے ڈی آر آئی کی کاروائیوں کو بھی منظر عام پر لایا جانے لگا ہے۔ ذرائع کے مطابق کئی سرکردہ قائدین سے ملزم کے تعلقات اور کئی سیاسی و تجارتی گھرانوں کے افراد کی جانب سے ملزم سے قیمتی گاڑیوں کی خریداری معمہ بنتی جا رہی ہے کیونکہ کروڑہا روپئے مالیتی گاڑیوں کے مالکین اب اپنی گاڑیوں کو گھر سے نکالنے میں خوف محسوس کرنے لگے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق گاڑیوں کا اسکام محض امپورٹیڈ گاڑیوں کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ ٹیکسی پلیٹ گاڑیوں کو بھی گاہکوں کو فروخت کرنے کا بھی اسکام جاری ہے جو کہ ڈی آر آئی کے دائرہ کار میں نہیں آتا لیکن اگر اس معاملہ میں مقامی پولیس اور دیگر ایجنسیاں تحقیقات کا آغاز کرتی ہیں تو مزید اسکامس منظر عام پر آنے کا امکان ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ دونوں شہروں میں بغیر نمبر پلیٹ چلائی جانے والی موٹر کاریں جنہیں عام طور پر ٹریفک پولیس کی جانب سے روکا نہیں جاتا کیونکہ بڑی کاروں میں اہم شخصیات کی موجودگی کے گمان میں پولیس کانسٹبل اور سب انسپکٹر یا انسپکٹر انہیں روکنے سے گریز کرتے ہیں جبکہ ان بغیر نمبر پلیٹ کاروں کے خلاف کارروائی کے آغاز پر فائیو اسٹار ہوٹلس کی ٹیکسی پلیٹ کاروں کے اسکام کے منظر عام پر آنے کا امکان ہے جو کم قیمت پر فروخت کرتے ہوئے نمبر پلیٹ آویزاں کئے بغیر زیر استعمال رکھی جاتی ہیں۔3