اسمبلی اور لوک سبھا کی رائے دہی میں بڑا فرق ، 90 فیصد مسلمانوں نے کانگریس کو ووٹ دیا
بڑے پیمانے پر کراس ووٹنگ کی اطلاعات ، سیاسی جماعتیں اور امیدوار الجھن کا شکار
حیدرآباد ۔ 14 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ کے لوک سبھا انتخابات میں مقابلہ کرنے والے امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں محفوظ ہوگیا ہے ۔ کامیابی سے متعلق تین بڑی جماعتیں بظاہر سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرنے کا دعویٰ کرکے اپنے کیڈر کے حوصلے بلند کررہی ہیں تاہم کراس ووٹنگ کی اطلاعات سے تینوں جماعتوں اور مقابلہ کرنے والے امیدواروں میں الجھن پائی جاتی ہے ۔ تقریبا 25 تا 30 دن انتخابی مہم چلانے والی کانگریس ، بی آر ایس اور بی جے پی اور 17 لوک سبھا حلقوں پر مقابلہ کرنے والے امیدوار ، اپنے حلقہ کے حدود میں شامل اسمبلی حلقوں ، مختلف ڈیویژنس اور بوتھ سطح پر ملنے والے ووٹس کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں ۔ پولنگ بوتھ ایجنٹس سے تفصیلات حاصل کرنے کے علاوہ پارٹی کے اہم قائدین کی رائے حاصل کی جارہی ہے جو گراونڈ سطح پر کام کررہے تھے ۔ اس کے علاوہ پارٹیاں اور امیدوار مختلف سروے کرنے والی ایجنسیوں کی خدمات سے استفادہ کرکے پولنگ کے بعد ان کی رپورٹ کی بنیاد پر امیدواروں کو ملنے والے ووٹوں کی بنیاد پر کامیابی اور شکست کے اندازے لگا رہے ہیں ۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ریاست میں لوک سبھا انتخابات کا عمل اختتام کو پہونچا ہے ۔ توقع کے مطابق اسمبلی انتخابات کے برعکس رائے دہی کے اندازے لگائے جارہے ہیں ۔ چند لوک سبھا حلقوں پر ذات ، پات کی بنیاد رائے دہی کے علاوہ شمالی تلنگانہ اور جنوبی تلنگانہ میں مختلف امور رائے دہی کا قیاس کیا جارہا ہے ۔ خاص طور پر ساڑھے پانچ ماہ قبل اسمبلی انتخابات میں مختلف اسمبلی حلقوں میں بڑی جماعتوں کو جو ووٹ حاصل ہوئے تھے ان ووٹوں کا تناسب لوک سبھا انتخابات میں الٹ پھیر کے امکانات نظر آرہے ہں ۔ ریاست کے کئی حلقوں میں بھاری کراس ووٹنگ کی اطلاعات وصول ہورہی ہیں ۔ اکثریتی نشستوں پر حکمران کانگریس اور بی جے پی کو اہم حریف کے طور پر دیکھا گیا ہے ۔ بالخصوص نظام آباد ، عادل آباد ، میدک ، کریم نگر ، چیوڑلہ ، محبوب نگر ، ملکاجگیری اور سکندرآباد جیسے حلقوں پر ووٹرس کا رجحان مختلف دیکھا گیا ہے ۔ اسمبلی انتخابات میں مختلف پارٹیوں کو ملے ووٹوں کے فیصد اور لوک سبھا انتخابات کیلئے رائے دہی کے ووٹوں کے تناسب میں فرق نظر آیا ہے ۔ چند حلقوں پر موجودہ ارکان پارلیمنٹ سے عوام ناراض ہیں لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ووٹنگ امیدوار کی بنیاد پر نہیں ہوئی بلکہ مرکز میں کون ہونا چاہئے اس بنیاد پر ہونے کی امید کی جا رہی ہے ۔ صرف لوک سبھا میدک میں بی آر ایس کیلئے امید کی کرن نظر آرہی ہے اور اسمبلی حلقہ سدی پیٹ سے زیادہ اکثریت ملنے کی توقع کی جارہی ہے ۔ حلقہ کریم نگر میں کانگریس اور بی آر ایس نے ایک ہی طبقہ کے امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارا ہے ۔ باوجود اس کے ویلما طبقہ کے اکثریتی ووٹ کانگریس کو ملتے نظر آرہے ہیں ۔ اس کے علاوہ حلقہ لوک سبھا جات ورنگل ، پداپلی ، محبوب آباد ، کھمم ، نلگنڈہ ، ناگرکرنول ، بھونگیر ، محبوب نگر میں کانگریس کے حق میں مثبت رائے دہی کی اطلاعات ہیں ۔ اضلاع کی اطلاعات کے مطابق 90 فیصد مسلم رائے دہی کانگریس کے حق میں ہوئی ہے ۔ چند حلقوں میں بی آر ایس حامیوں کے بی جے پی کو شکست دینے کانگریس کو ووٹ دینے کی اطلاعات ہیں ۔ چند حلقوں میں کانگریس کے حامیوں کے ووٹ بی آر ایس اور بی جے پی میں تقسیم ہوئے اور بیشتر حلقوں میں کانگریس کی حکومت ہونے کی وجہ سے بی آر ایس اور بی جے پی کے حامیوں نے کانگریس کو ووٹ دیا ہے ۔۔ 2