الیکشن کمیشن کا دعوی ۔ کانگریس وفد کو منگل کو کمیشن آنے کی دعوت ۔ تمام تحفظات کا جائزہ لینے اور تحریری جواب دینے کا تیقن
نئی دہلی : ہریانہ کے بعد کانگریس نے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے نتائج میں ہیرا پھیری کا الزام لگاتے ہوئے سوال اٹھائے تھے۔ ان سوالات پر الیکشن کمیشن نے کانگریس کے وفد کو 3 دسمبر کو مدعو کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے کانگریس وفد کو شام 5 بجے مدعو کیا ہے۔ تاہم کمیشن نے اعادہ کیا کہ انتخابات میں کوئی بے ضابطگی نہیں ہوئی۔ کمیشن نے یقین دلایا کہ کانگریس کے ہر سوال کا جواب دیا جائے گا ۔ کمیشن نے کانگریس کے تمام جائز تحفظات کا جائزہ لینے اور سماعت کے بعد تحریری جواب کی یقین دہانی کرائی ہے۔ کمیشن نے اعادہ کیا کہ یہ عمل شفاف تھا اور اس میں ہر مرحلے پر امیدواروں یا ان کے ایجنٹوں کی شرکت شامل تھی۔ کمیشن نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کی شمولیت سے شفاف ووٹر لسٹ اپ ڈیٹ کا عمل شروع کیا گیا تھا۔ پولنگ کے اعداد و شمار سے متعلق معاملہ پر کمیشن نے اعادہ کیا کہ اس میں کوئی تضاد نہیں ہے اور تمام امیدواروں سے متعلق پولنگ اسٹیشنوں کا ڈیٹا دستیاب اور قابل تصدیق ہے۔ کمیشن نے وضاحت کی کہ شام 5 بجے ووٹنگ کے اعداد و شمار اور حتمی ووٹنگ فیصد میں فرق طریقہ کار کی ترجیحات کی وجہ سے تھاکیونکہ پریسائیڈنگ آفیسر اعداد و شمار کو اپ ڈیٹ کرنے سے پہلے کئی قانونی فرائض انجام دیتا ہے۔کانگریس نے کل سی ڈبلیو سی میٹنگ کے بعد الیکشن کمیشن پر کئی سنگین الزامات لگائے تھے۔ کانگریس نے الزام لگایا تھا کہ انتخابات سے عین قبل ووٹرس کے نام حذف کر دیے گئے اور کچھ لسٹ سے شامل کر دیے گئے۔ کمیشن نے کہا کہ امیدوار کے پاس مکمل ڈیٹا موجود ہے۔ کمیشن نے کہا کہ شام 5 بجے کے ووٹنگ ڈیٹا اور حتمی ووٹنگ ڈیٹا کے درمیان فرق طریقہ کار کی بنیاد پر ہے۔ ورکنگ کمیٹی نے مہاراشٹرا اور ہریانہ کے نتائج کا جائزہ لینے ساڑھے چار گھنٹے سے زائد میٹنگ کی۔ سی دبلیو سی کا خیال ہے کہ انتخابی عمل کی سالمیت سے سمجھوتہ کیا جا رہا ہے۔ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ایک آئینی تقاضا ہے جس پر الیکشن کمیشن کی جانبدارانہ کارکردگی سے سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اجلاس میں قرار داد منظور کی گئی اور کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کی جانبدارانہ کارکردگی اسے سنگین سوالات کی زد میں لے رہی ہے۔ سماج کا بڑا طبقہ مایوس اور خوف زدہ ہوتا جا رہا ہے، اس لیے کانگریس ان خدشات کو ایک قومی تحریک کی شکل میں اٹھائے گی۔کانگریس نے الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ پارٹی نے کہا کہ 21 نومبر 2024 کی شام 5 بجے تک مہاراشٹر میں ووٹنگ کا فیصد 58.22 فیصد تھا جو رات 11.30 بجے تک بڑھ کر 65.02 فیصد ہو گیا۔حتمی رپورٹ میں 66.05 فیصد بتایا گیا۔کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ ووٹروں کو ووٹر لسٹوں سے من مانی طور پر ہٹا دیا گیا اور ہر اسمبلی حلقہ میں 10,000 سے زیادہ ووٹروں کو شامل کیا گیا۔