مہاراشٹرا میں بیالٹ پیپر سے انتخابات ہوتے تو کانگریس کو اقتدار ضرور ملتا ، مسلم کمیونٹی کی ترقی کیلئے مساعی کرنے کا عزم ، جناب عامر علی خاں ایم ایل سی کا گواہ ٹی وی کو انٹرویو
حیدرآباد ۔ 27 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز) ۔ مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات میں ووٹنگ کیلئے ای وی ایم کے بجائے اگر بیلٹ پیپر استعمال ہوتا تو نتائج کانگریس یا انڈیا اتحاد کے حق میں ہوتا۔ اے وی ایم ناقابل اعتبار ہیں کیونکہ یہ مرکزی حکومت کے تحت ادارے تیار کرتے ہیں اور نتائج کا فیصلہ ان کی مرضی کے مطابق ممکن ہے۔ سابق اور موجودہ چیف جسٹس آف انڈیا سے امید کی جارہی تھی کہ وہ انتخابات میں بیلٹ پیپر کے حق میں فیصلہ دیں گے۔ استعمال کی اجازت دیں گے مگر ایسا نہیں ہوا۔ نئے چیف جسٹس آف انڈیا سے مثبت امید رکھی جاسکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار جناب عامر علی خان ایم ایل سی و نیوز ایڈیٹر سیاست نے گواہ ٹی وی کو دئے گئے ایک انٹرویو میں کہا۔ یہ انٹرویو ڈاکٹرسید خالد شہباز نے کیا ہے۔ جناب عامر علی خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ملک کے حالات کشیدہ سے کشیدہ تر ہوتے جارہے ہیں۔ آر ایس ایس اپنی تاسیس کی صدی مکمل کرنے والی ہے اس کی کوشش ملک کے دستور کو تبدیل کرنا ہے چنانچہ مختلف طریقوں سے دستور کے سیکولر اور سوشلسٹ کردار کو حذف کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دستور ہند کو مدون ہوئے 75 برس ہوئے ہیں۔ نہ تو اس میں ترمیم کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی تبدیلی کی چونکہ مذہبی فرقہ واریت کے بنا پر آر ایس ایس اور اس کے ہم خیال جماعتیں ملک پر اقتدار کے قائل ہیں۔ چنانچہ ملک کے ماحول اور اس کے دستور کو بدلنے کے ناپاک عزائم رکھتی ہیں۔ ملک میں وقفے وقفے سے ہونے والے فسادات کے ذریعے مسلمانوں کی معیشت کو تباہ کیا جاتا ہے۔ انہیں نفسیاتی طور پر خوف زدہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ ہر دس برس میں ملک کے کسی نہ کسی حصے میں بڑے پیمانے پر مسلم کش فسادات کروائے جاتے ہیں۔ہر فساد کے بعد مسلمان نئی طاقت بن کر ابھرتے ہیں۔ 1992ء میں بابری مسجد کی شہادت اور اس کے بعد کے فسادات، مسلمانوں میں تعلیمی شعور پیدا ہواتوتھا۔ 2002ء میں گجرات کے بدترین فسادات کے بعد مسلمانوں میں نیٹ ورکنگ یعنی ملی اتحاد کا جذبہ بیدار ہوا۔ 2014سے 2024 کے دوران مختلف بہانوں سے نئے نئے طریقوں سے مسلمانوں پر حملے کئے جارہے ہیں۔ انکے عبادت گاہوں کو نشانا بنایا جارہا، معیشت کو تباہ کیا جارہا ہے۔ ان حالات کا مقابلہ کرنے اور اس کے سدباب کیلئے اقدامات ضروری ہے۔ خصوصی طور پر ان مقتول مسلمانوں کے افراد خاندان یا مظلوم مسلمانوں کا سرمایہ جو لوٹ لیا گیا ہے تو اسکے بعد دوبارہ کاروبار یا معیشت کو بہتر بنانا مشکل مسئلہ بن جاتا ہے۔ اس کیلئے مسلمانوں کو انشورنس کروانا چاہئے اور یہ انشورنس کم از کم پانچ لاکھ کا ہو تاکہ اگر خدا نخواستہ کوئی مسلمان ہلاک ہوجائے تو اس کے افراد خاندان کو مصیبت سے دوچار ہونا نہ پڑے اور حکومت کی جانب سے بھی کم از کم دس لاکھ روپئے موت کے مل سکتے ہیں۔ اگر مسلمان چھوٹا سے چھوٹا کاروبار کرتا ہو اور وہ اپنی زندگی بھر کی کمائی لگانے کے بعد ظالموں کے ظلم کا شکار ہو تو اس کے نقصان کا ازالہ انشورنس کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے انشورنس کروانا مسلمانوں کیلئے بے حد ضروری ہے۔ ویسے سعودی عرب میں بھی انشورنس کروایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ ہر مسلمان انشورنس لازمی طور پر کرائے۔ جناب عامر علی خان نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنے حق کیلئے سڑکوں پر آنے سے روکنے کیلئے جمہوری اقدار کو ملحوظ رکھ کر دانشوران قوم و ملت متحدہ طور پر اس پر توجہ دیں خصوصی طور پر مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے کیلئے انہیں تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر مستحکم کرنے کی کوشش کریں۔ رکن قانون ساز کونسل جناب عامر علی خان نے ایک سوال کے جواب میں اخبار سیاست سے عملی سیاست میں داخلے کے بعد وہ کیا فرق محسوس کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ایم ایل سی کی حیثیت سے حلف لے کر لگ بھگ تین ماہ ہوچکے ہیں لیکن ابھی تک انہیں کونسل میں قدم رکھنے کا موقع نہیں ملا جب ایوان میں بیٹھیں گے تو اپنی ذمہ داریوں کوبخوبی نبھائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہیں اقتدار کی کبھی بھی ضرورت نہیں رہی ہے۔ مسلم نمائندگی کی خاطر ریونت ریڈی کابینہ میں شامل کیا جاتا ہے تب بھی وہ اتنا ہی کام اپنی کمیونٹی کی تعلیم اور ان کی معاش کیلئے کریں گے جتنا وزات میں نہ ہوتے ہوئے وہ کرسکتے ہیں۔ان کا عزم ہے کہ چھ سالہ میعاد میں سے تقریبا ایک سال گزر چکا ہے۔ کم از کم ایک لاکھ خاندانوں کی معاشی حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کے ایک ذمہ دار ہونے کی حیثیت سے وہ چیف منسٹر تک ان مسائل کو نہ صرف پہنچائیں گے بلکہ ان کی یکسوئی کے طریقہء کار پر بھی عمل آوری کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں کہ اردو اکیڈمی ایوارڈ فنکشن میں چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اپنی تقریر میں وضاحت کی تھی کہ عامر علی خان کو ہائی کمان یعنی کھرگے اور راہول گاندھی نے گورنر کوٹے کے تحت ایم ایل سی نامزد کیا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہائی کمان ان کی صلاحیتوں اور خدمات سے متاثر ہے اگر ہائی کمان اپنے مشیر برائے اقلیتی امور کے طور پر مرکز میں خدمات حاصل کرنا چاہے تو کیا اسے قبول کریں گے۔ جناب عامر علی خان نے کہا کہ اگر ایسی کوئی پیش کش ہوتی ہے توہ اپنی کمیونٹی کی فلاح و بہبود کیلئے اسے قبول کریں گے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ماضی میں احمد پٹیل، غلام نبی آزاد، سلمان خورشید، جیسے اور مسلم قائدین نے کانگریس قیادت کی رہنمائی کی تھی اور اب جناب ناصر حسین راہول گاندھی یا ہائی کمان کے مائیناریٹی کوآرڈی نیٹر ہیں۔جناب عامر علی خان نے آخر میں مسلمانوں کو وقت کی قدر اور مشکل حالات میں صبر کا مشورہ دیا۔