انتخابات کے اعلامیہ کے ساتھ ہی تلنگانہ میں سیاسی سرگرمیاں بڑھ جائیں گی

   

بی آر ایس کے قائدین برسر اقتدار کانگریس پارٹی میں شمولیت کے لیے کوشاں
حیدرآباد۔15۔مارچ(سیاست نیوز) ملک میں عام انتخابات کے لئے اعلامیہ کی اجرائی کے ساتھ ہی ریاست تلنگانہ میں سیاسی ہلچل میں اضافہ اور سیاسی سرگرمیاں بڑھ جائیں گی۔ تلنگانہ میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے نتائج اور کانگریس کو اقتدار حاصل ہونے کے بعد جو حالات پیدا ہوئے ہیں ان میں اپوزیشن بھارت راشٹرسمیتی کے کئی سرکردہ اراکین اسمبلی برسراقتدار سیاسی جماعت سے رابطہ میں ہیں لیکن کسی بھی رکن اسمبلی نے تا حال کانگریس میں باضابطہ شمولیت اختیار نہیں کی ہے لیکن اس کے باوجود کئی ارکان اسمبلی کو برسراقتدار جماعت نے اپنے گروہ میں شمار کرنا شروع کردیا ہے اور تلنگانہ میں بھارت راشٹرسمیتی کے اقتدار سے محروم ہونے کے بعد پارٹی کے کئی سرکردہ قائدین پارٹی سے علحدگی اختیار کرنے لگے ہیں اور بی آر ایس تلنگانہ میں اپنی بقاء کے لئے بہوجن سماج پارٹی سے اتحاد کرچکی ہے تاکہ آئندہ عام انتخابات میں پارٹی کے ارکان پارلیمان کو منتخب کروایا جاسکے۔سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی اس حکمت عملی کے سلسلہ میں کہا جار ہاہے کہ تلنگانہ میں کے سی آر اپنی پارٹی کو بچانے کے لئے ممکنہ حد تک کوشش میں مصروف ہیں اور انہوں نے اس کوشش کے لئے بی جے پی سے بھی مفاہمت کے سلسلہ میں منصوبہ بندی کی تھی لیکن اس میں انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور اب جو صورتحال پیدا ہورہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ تلنگانہ میں بی آر ایس کے لئے سیاسی بقاء انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ذرائع کے مطابق تلنگانہ میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد سے کانگریس نے بی آر ایس قائدین کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے کی جو مہم شروع کی ہے اس کا عملی طور پر آغاز نہیں کیا گیا ہے لیکن کئی ارکان اسمبلی برسراقتدار جماعت کے قائدین سے رابطہ میں ہیں علاوہ ازیں چیف منسٹر تلنگانہ اے ریونت ریڈی نے جو حکمت عملی ومنصوبہ بندی تیار کی ہے اس کے مطابق وہ ریاست تلنگانہ کے بیشتر تمام اضلاع میں بی آر ایس قائدین ہی نہیں بلکہ کسی بھی سیاسی جماعت کے بااثر قائدین کو کانگریس میں شامل کروانے کے اقدامات کر رہے ہیں اور اپنے پارٹی قائدین کو اس بات کی تاکید کر رہے ہیں کہ وہ آپسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دیگر سیاسی جماعتوں میں موجود بااثر قائدین کو پارٹی میں شامل ہونے کی راہ ہموار کریں۔ذرائع کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کے جو قائدین کانگریس سے رابطہ میں ہیں ان کی پارٹی میں شمولیت کے سلسلہ میں پارٹی کے ریاستی قائدین کی جانب سے کوئی فیصلہ نہیں کیا جا رہاہے بلکہ بی جے پی سے کانگریس میں شامل ہونے کے خواہشمندوں کی تفصیلات کانگریس کے ریاستی قائدین کی جانب سے پارٹی اعلیٰ کمان کوروانہ کی جار ہی ہیں تاکہ انہیں شامل کرنے کے سلسلہ میں پارٹی اعلیٰ کمان کی جانب سے فیصلہ کیا جاسکے۔بتایاجاتا ہے کہ بی آر ایس کے ارکان اسمبلی جو کانگریس پارٹی قائدین کے رابطہ میں ہیں وہ ملک میں عام انتخابات کے اعلامیہ کی اجرائی کے ساتھ ہی پارٹی کو جھٹکا دے سکتے ہیں اور کانگریس میں باضابطہ شمولیت کے سلسلہ میں اپنے فیصلہ سے واقف کرواتے ہوئے ریاست کی سیاست میں ہلچل پیدا کرسکتے ہیں۔انتخابات کے شیڈول کی اجرائی سے عین 24گھنٹے قبل بی آر ایس سربراہ کے سی آر کی دختر و رکن قانون ساز کونسل مسز کویتا کے مکان پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے دھاوؤں سے بھی ہلچل پیداہوچکی ہے۔3