اندراماں انڈلو اسکیم پر جی او 33 کے خلاف درخواستیں ہائی کورٹ میں مسترد

   

گرام سبھا کے ذریعہ استفادہ کنندگان کا انتخاب کرنے حکومت کا تیقن
حیدرآباد۔ 24 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے اندراماں انڈلو اسکیم کے استفادہ کنندگان کے انتخاب کے لئے حکومت کی جانب سے اندراماں کمیٹیوں کی تشکیل کے فیصلے کو درست قرار دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ حکومت کے پالیسی فیصلوں میں عدلیہ کے مداخلت کی گنجائش نہیں ہے۔ حکومت نے اندراماں انڈلو اسکیم کے استفادہ کنندگان کے انتخاب کے لئے کمیٹیاں تشکیل دیتے ہوئے جی او نمبر 33 جاری کیا تھا۔ جی او کے تحت ضلع کلکٹرس کو کمیٹیوں کی تشکیل کے اختیارات دیئے گئے ہیں۔ بی جے پی لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر مہیشور ریڈی اور بعض دیگر قائدین نے جی او 33 کو چیالنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ جسٹس جی نگیش نے درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے درخواست گذاروں کے دلائل کو نامنظور کردیا۔ درخواست میں شکایت کی گئی کہ گرام سبھا اور وارڈ کمیٹی کے اجلاس کے بغیر اندراماں کمیٹیوں کی تشکیل غیر دستوری ہے۔ سابق بی آر ایس حکومت نے ڈبل بیڈ روم اسکیم کے استفادہ کنندگان کا انتخاب گرام سبھا کے ذریعہ کیا تھا۔ اندراماں کمیٹی ارکان کے تقرر سے متعلق کلکٹر کو اختیارات دیئے جانے سے سیاسی نمائندگی کا اندیشہ ہے۔ مجالس مقامی اور پنچایت راج اداروں کے اختیارات کو سلب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ استفادہ کنندگان کے انتخاب کے لئے سیلف ہیلپ گروپس سے دو خواتین اور تین مقامی افراد کو شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ استفادہ کنندگان کی فہرست کی تیاری میں اندراماں کمیٹی کا رول قطعی نہیں ہوگا گرام سبھا کے ذریعہ ہی پہل افراد کا تعین کیا جائے گا۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ استفادہ کنندگان کے انتخاب کے طریقہ کار سے درخواست گذار کے حقوق متاثر نہیں ہوں گے۔ فریقین کی سماعت کے بعد جسٹس نگیش نے کہا کہ استفادہ کنندگان کے انتخاب میں اندراماں کمیٹی کا فیصلہ قطعی نہیں ہوگا اور کلکٹر کو موصولہ درخواستوں پر گرام پنچایت کے سکریٹری اور میونسپلٹی میں وارڈ کی سطح پر عہدیدار سروے کے ذریعہ جانچ کریں گے۔ استفادہ کنندگان کے انتخاب میں اندراماں کمیٹیاں صرف معاون رہیں گیں اور گرام سبھا کے ذریعہ انتخاب کیا جائے گا۔ جسٹس نگیش نے درخواست گذاروں کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے جی او 33 کو برقرار رکھنے کی ہدایت دی۔ 1