انسانیت کوشرمسار کرنے والا ایک اور واقعہ ضلع وقار آباد میں پیش آیا

,

   

سانس کی تکلیف سے دم توڑنے والی خاتون کی نعش کو بس سے سڑک پر بے رحمی سے اُتار دیا گیا
حیدرآباد :۔ انسانیت کو تار تار کرنے والا ایک اور واقعہ ضلع وقار آباد میں پیش آیا ۔ گلے میں درد سے تڑپتے ہوئے بس میں دم توڑنے والی خاتون کی نعش کو کورونا وائرس کے خوف سے بس ڈرائیور ، کنڈاکٹر اور مسافرین نے بڑی بے رحمی سے سڑک پر اُتار کر روانہ ہوگئے ۔ حالیہ کورونا بحران کے دوران انسانیت کو شرمسار کرنے والے کئی واقعات کو ہم نے دیکھا اور سنا بھی ہے ۔ کورونا وائرس نہ صرف انسانوں کو مار رہا ہے بلکہ انسانیت کو بھی ختم کررہا ہے ۔ کورونا وائرس کا شکار ہونے والوں سے رشتہ دار منہ چھپا رہے ہیں ۔ مرنے پر آخری دیدار کرنا بھی مناسب نہیں سمجھ رہے ہیں ۔ ایسا ہی ایک واقعہ ضلع وقار آباد کے دھرور منڈل کے کیرلی موضع میں پیش آیا ۔ گلے میں کنتھی کے درد سے خاتون نے بس میں دم توڑ دیا ۔ کورونا سے فوت ہونے کے خوف سے نعش کو بیچ سرک پر اتار کر بس ڈرائیور ، کنڈاکٹر اور مسافرین روانہ ہوگئے ۔ یلالہ منڈل کشٹیا پور موضع کے جی چنا آشا اپا کی 40 سالہ بیوی وینکٹ آماں کے گلے پر کنتھی کے بڑھنے سے اس خاتون کو سانس لینے اور کھانا کھانے میں کافی تکلیف کا سامنا تھا چند دن قبل ہی اس خاتون کا شہر حیدرآباد کے بسواتارکم ہاسپٹل میں معائنہ بھی کروایا گیا تھا ۔ اس سے قبل کورونا کا ٹسٹ بھی کروایا تھا جس کا نتیجہ نگیٹیو برآمد ہوا ۔ گلے کے پاس پائے جانے والی کنتھی کو آپریشن کر کے نکالنے کے لیے ڈاکٹرس نے دو لاکھ روپئے کے اخراجات بتائے تھے ۔ بیوی کی زندگی بچانے کے لیے آشااپا نے اپنی تین ایکڑ اراضی فروخت کرنے کا بھی فیصلہ کرلیا تھا اور اپنے جان پہچان کے لوگوں سے قرض لے کر آشااپا نے اپنی بیوی وینکٹ اماں اور دو بیٹیوں کے ساتھ آر ٹی سی بس میں تانڈور سے حیدرآباد کے لیے روانہ ہوا ۔ دھرور پار ہونے کے بعد وینکٹ اماں کو سانس لینے میں دشواری ہوئی اور بس میں ہی دم توڑ دیا ۔ کیرلی موضع پر بس روک کر ڈرائیور ، کنڈاکٹر اور مسافرین نے آشااپا کو نعش نیچے اتارنے کی ہدایت دی ۔ آشااپا نے بار بار کہا کہ وہ کورونا سے متاثر نہیں ہے ۔ گلے میں کنتھی کی وجہ سے فوت ہوگئی ہے ۔ لیکن کسی نے ایک نہیں سنی اور نعش کو بس سے نیچے اتارنے کے بعد آشااپا اور اس کی دو بیٹیوں کو بے یار و مددگار چھوڑ کر چلے گئے ۔ آشااپا نے روتے ہوئے اپنے داماد اور کیشٹا پور کے سرپنچ پروین کمار کو اس کی اطلاع دی ۔ بلاخر ایک آٹو کو راضی کراتے ہوئے نعش کو آبائی گاؤں تک منتقل کیا گیا۔ آشااپا نے کہا کہ سڑک پر نعش کے ساتھ رہنے پر کسی نے ان کی مدد نہیں کی ۔۔