آنکھ مچولی کا کھیل کیوں ؟

   

ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں
ہے حقیقت جس کے دیں کی احتسابِ کائنات
جنتر منتر احتجاج اور پھر پارلیمنٹ تک مارچ کے دوران پیش آنے والے واقعات اور حکومت کی کارروائیوں ‘ بعد میں سی جے پی کے نمائندوں کے ساتھ معاہدہ اور مرکزی وزیر تعلیم کی حیثیت سے دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد ایسا لگ رہا تھا کہ حالات معمول پر آجائیں گے کیونکہ مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ نے طلباء اور احتجاجیوں کے خلاف کسی طرح کی قانونی کارروائی نہ کرنے اور جو مقدمات درج کئے گئے ہیں انہیں واپس لینے کا تیقن دیا تھا ۔ سی جے پی کے نمائندوں نے مرکزی وزراء کی موجودگی میں پریس کانفرنس کے دوران اس تیقن کا اظہار بھی کیا تھا ۔ اس کے بعد جنترمنتر پر احتجاج ختم ہوگیا اور طلباء و احتجاجی اپنے گھروں کو واپس ہوگئے ۔ اس کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے آنکھ مچولی کا کھیل شروع کردیا گیا ہے ۔ کہیں طلباء کو گرفتار کیا جارہا ہے ‘ کہیں ان کے چہروں کی اسکیننگ کی جا رہی ہے تو کہیں طلباء اور نوجوانوں کی پروفائلنگ شروع کردی گئی ہے ۔ بہار میں سینکروں کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ۔ مقدمات درج کئے گئے ۔ کچھ کو جیلوں میں بھیجا گیا ۔ اترپردیش میں پولیس نے جنتر منتر پر طلباء و احتجاجیوں کو کھانا کھلانے والے محمد جنید کو غیر قانونی طور پر حراست میں لے کر ان سے پوچھ تاچھ کی اور پھر انہیں چھوڑ دیا ۔ دارالحکومت دہلی میں طلباء کے ہاسٹلس پر دھاوے کئے جار ہے ہیں۔ ان سے پوچھ تاچھ کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ایک سیاسی پارٹی کے دفتر پر پولیس نے دھاوا کرتے ہوئے ایک طلباء لیڈر کو حراست میں لینے کی کوشش کی ۔ مغربی بنگال میں بھی حکومت کی جانب سے سات پشت یاد رکھنے جیسی سزائیں دینے کا اعلان کیا گیا ۔ یہ سارا کچھ مرکزی وزراء کے تیقن کے باوجود ہو رہا ہے ۔ بہار میں دباؤ کے بعد حکومت نے مقدمات سے دستبرداری کا اعلان کردیا ہے ۔ اسی طرح دہلی میں بھی اعلان کیا گیا ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ جن کے مجرمانہ پس منظر رہے ہیں ان کے خلاف کارروائی ضرور ہوگی ۔ اس معاملے کو مشروط کیا جا رہا ہے ۔
اس کے علاوہ مرکزی حکومت کی جانب سے احتجاجیوں کے خلاف پیلٹ گن استعمال کرنے کے مسئلہ پر کوئی واضح جواب نہیں دیا جا رہا ہے ۔ اپوزیشن ارکان اور خاص طور پر کانگریس قائدین کی جانب سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ہی ایوانوں میں اس مسئلہ پر حکومت سے مسلسل سوال پوچھے جا رہے ہیں لیکن کوئی واضح جواب دینے سے گریز کیا جا رہا ہے ۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ ان کی وزارت سے متعلق سوال کے وقت بھی ایوان میں موجود نہیں رہے اور اپوزیشن قائدین کے بار بار سوال کرنے پر بی جے پی کے ارکان کی جانب سے شور شرابہ کیا گیا اور واضح جواب دہی سے گریز کیا گیا ہے ۔ یہ سارا مسئلہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو الجھارہا ہے اور حکومت اس پر کوئی واضح موقف اختیار کرنے کی بجائے ٹامل مٹول جیسی پالیسی اختیار کر رہی ہے ۔ حکومت کو اس سارے معاملے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے ۔ جس طرح سے ایوان میں اینٹی پیپر لیک بل پیش کیا گیا اور اس پر مباحث کروائے گئے اسی طرح سے سی جے پی کے احتجاج اور اس کے بعد کی کارروائیوں اور حکومت کے موقف پر واضح جواب دیا جانا چاہئے ۔ یہ جواب دیا جانا بھی ضروری ہے کہ طلباء اور نوجوانوں کے خلاف پیلٹ گن استعمال کرنے کی اجازت آخر کس نے دی ہے ۔ اس کی بنیاد کیا رہی ہے اور قوانین کے مطابق ساری کارروائی کی گئی ہے یا نہیں۔ صرف ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کرنا مسئلہ کا حل نہیں ہے ۔
مرکزی سطح پر کوئی پالیسی اور ریاستوں میں الگ اقدامات حکومت کے موقف میں تضاد کو پیش کرتے ہیں کیونکہ جن ریاستوں کا تذکرہ کیا گیا ہے ان ریاستوںم یں بھی مرکز کی طرح بی جے پی کی ہی حکومت ہے ۔ اس کے باوجود موقف میںتضاد خود طلباء اور حکومت میں الجھن پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔ حکومت کو اس معاملے میں واضح اور سنجیدہ موقف اختیار کرنا چاہئے ۔ آنکھ مچولی بند کرنی چاہئے اور طلباء و نوجوانوں کے ساتھ جو وعدے کئے گئے تھے ان کی تکمیل کی جانی چاہئے ۔