خطرات عالمی نوعیت کے ہوگئے، کارروائی مقامی سطح تک محدود نہیں ہوسکتی۔ محفوظ دنیا کو یقینی بنانا ہم سب کی ذمہ داری: مودی
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو انٹرنیشنل کریمنل پولیس آرگنائزیشن (انٹرپول) کے رکن ممالک کے پولیس نمائندوں سے دہشت گردی، بدعنوانی، منشیات کی اسمگلنگ، سائبر، مالی اور منظم جرائم کے خلاف متحد ہو کر لڑنے کی ضرورت ہے اور سائبر دنیا میں بھی نگرانی اور سیکورٹی کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے ۔ مودی نے یہ بات دارالحکومت میں انٹرپول کی 90ویں جنرل میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر وزیر داخلہ امیت شاہ، انٹرپول کے چیرمین لیفٹیننٹ جنرل احمد ناصر الرئیسی اور سکریٹری جنرل جرگن اسٹاک بھی موجود تھے ۔ سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے ڈائریکٹر سبودھ کمار جیسوال نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہاکہ دہشت گردی، بدعنوانی، منشیات کی اسمگلنگ اور منظم جرائم پہلے سے کہیں زیادہ ہو رہے ہیں۔ جب خطرات عالمی ہوں تو جوابی کارروائی مقامی سطح تک محدود نہیں ہو سکتی۔ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا متحد ہو جائے اور ایسے خطروں کو شکست دی جائے ۔انہوں نے کہا کہ آج دہشت گردی کا مقابلہ ہر سطح پر کرنا ہوگا ۔ اب اس کے طول و عرض پھیل رہے ہیں اور آن لائن کٹر پسندی اور سائبر خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔مودی نے کہا کہ بدعنوانی اور مالیاتی جرائم نے کئی ممالک میں شہریوں کی فلاح و بہبود کو نقصان پہنچایا ہے ۔ کرپٹ لوگ اپنی دولت کو دنیا کے کسی بھی کونے میں چھپانے کا طریقہ ڈھونڈ لیتے ہیں جبکہ یہ پیسہ دراصل ملک کے شہریوں کی دولت ہے ۔ کرپشن سے کمایا گیا پیسہ برائیوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ اسے دہشت گردی کی مالی معاونت میں بھی بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ایک جگہ ہونے والے جرائم دراصل ہر فرد اور انسانیت کے خلاف جرائم ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ محفوظ دنیا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ شرپسند قوتیں اس وقت کامیاب نہیں ہو سکتیں جب قانون کی حفاظت کرنے والی سیکورٹی فورسز ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ پوری دنیا میں پولیس فورس نہ صرف عوام کی حفاظت کرتی ہے بلکہ عوام کی فلاح و بہبود میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے ۔ کسی بھی بحران میں پولیس تعاون کرنے کے لئے سب سے پہلے تیار ہوتی ہے اور کووڈ کے بحران کے دوران سب نے اسے محسوس بھی کیا ہے ۔ مودی نے کہا کہ ہندوستان کی پولیس مرکزی اور ریاستی سطح پر 900 مرکزی اور 10ہزار سے زیادہ ریاستوں کے قوانین کے نفاذ میں اپنا حصہ ادا کرتی ہے ۔
داؤد ابراہیم کی حوالگی کا سوال پاکستان نے ٹال دیا
انٹرپول کی نئی دہلی میں جنرل اسمبلی کے آج پہلے روز پاکستان کو کچھ مشکل سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کے تعلق سے یہ سوالات اُٹھائے گئے کہ اُسے انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم اور 26/11 ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے سرغنہ حافظ سعید کو ہندوستان کے حوالے کرنے میں اپنا اہم رول ادا کرنا چاہئے۔ برسہا برس سے داؤد ابراہیم اور حافظ سعید کی پاکستان میں موجودگی متنازعہ اور مشکوک معاملہ بنی ہوئی ہے۔ وقفہ وقفہ سے پاکستان پر بعض عالمی طاقتیں دباؤ ڈالتی رہی ہیں کہ اُسے مطلوب داؤد ابراہیم اور حافظ سعید کو ہندوستان کے حوالے کرنے میں اپنا رول سرگرمی سے ادا کرنا چاہئے تاہم پاکستان نے کبھی بھی اثبات میں ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ آج بھی پاکستان کے وفد نے سوال ٹال دیا۔