انڈیا اتحاد کی جماعتوں کا 30 ستمبر کو اجلاس ‘ مشترکہ حکمت عملی پر غور ہوگا

,

   

ممتابنرجی کی راہول گاندھی اور سی پی ایم جنرل سکریٹری سے فون پر تفصیلی گفتگو کے بعد فیصلہ ۔ ملک گیر احتجاج اور تحریک مواخذہ کی پیشکشی کا امکان

نئی دہلی 26 ستمبر ( ایجنسیز ) اپوزیشن انڈیا اتحاد کی جماعتوں کا ایک اجلاس 30 ستمبر کو نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں طلب کیا گیا ہے جس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف برخواستگی کی تحریک پیش کرنے پر غور کیا جائے گا ۔ امکان ہے کہ اس اجلاس میں مجوزۃ تحریک مواخذہ کے تعلق سے دستخط لئے جائیں گے ۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی برخواستگی کیلئے اپوزیشن کی یہ تیسری کوشش ہوگی ۔ انگریزی روزنامہ میں الیکشن کمیشن میں داخلی اختلافات اور عد اتفاق کی رپورٹ کے بعد یہ اجلاس منعقد ہو رہا ہے ۔ رپورٹ میں یہ دعوی بھی کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے عمل کے تعلق سے اور اس سے متعلق دیگر مسائل پر اتفاق رائے نہیں تھا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے یکطرفہ فیصلے کئے ہیں۔ یہ دعوی بھی کیا گیا تھا کہ 10 ماہ کے عرصہ میں دو الیکشن کمشنران سکھبیر سنگھ سندھو اور ویویک جوشی نے تقریبا 14 مرتبہ اپنے اختلافات کا اظہار کیا تھا ۔ کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن جماعتیں امکان ہے کہ گیانیش کمار کے استعفی اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں کی آزادانہ تحقیقات کیلئے اپنے مطالبہ میں شدت پیدا کریں گی اور ملک گیر سطح پر احتجاج کا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا ۔ کہا گیا ہے کہ ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتابنرجی نے فون پر قائد اپوزیشن راہول گاندھی سے اور سی پی آئی ایم کے جنرل سکریٹری ایم اے بے بی کے ساتھ فون پر تفصیلی بات چیت کی تھی تاکہ ایک مشترکہ حکمت علی تیار کی جاسکے ۔ اس کے بعد ہی انڈیا اتحاد کے اجلاس کی طلبی کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ کہا گیا ہے کہ اس بات چیت کے بعد ہی 30 ستمبر کو اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف جدوجہد کے دوران ترنمول کانگریس اور سی پی آئی ایم جیسی دو کٹر حریفوں کے درمیان رابطے بحال ہوئے ہیں اور اس مسئلہ پر دونوں ہی جماعتیں آپس میں متحد نظر آتی ہیں۔ دونوں جماعتیں مغربی بنگال میں ایک دوسرے کی کٹر حریف ہیں۔ اس سے قبل قومی سطح پر انڈیا بلاک کے اتحاد میں بھی دونوں جماعتیں ایک ساتھ دیکھی گئی تھیں۔ امکان ہے کہ انڈیا اتحاد کی جماعتوں کے اجلاس میں کانگریس قائدین سونیا گاندھی ‘ راہول گاندھی ‘ ملکارجن کھرگے ‘ ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتابنرجی اور ابھیشیک بنرجی کے علاوہ سماجوادی پارٹی لیڈر اکھیلیش یادو اور شیوسینا ادھو ٹھاکرے کے سربراہ ادھو ٹھاکرے اور دوسرے قائدین اجلاس میں شرکت کریں گے ۔ ذرائع نے کہا کہ انڈیا اتحاد کا آخری اجلاس 8 جون کو کانسٹی ٹیوشن کلب میں منعقد ہوا تھا ۔ ڈی ایم کے نے خود کو اس اتحاد سے دور کرلیا ہے کیونکہ کانگریس نے ٹاملناڈو اسمبلی انتخابات کے بعد وجئے کی حکومت کی تائید کی ہے ۔ ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ہے کہ ڈی ایم کے 30 ستمبر کے اجلاس میں شرکت کرے گی یا نہیں ۔ اجلاس میں تین نکات پر غور کیا جاستکا ہے ۔ پہلی حکمت عملی پارلیمنٹ میں تحریک مواخذہ پیش کرنے کی ہوگی ‘ اس کیلئے دستخط لئے جائیں گے ۔ دوسرا مسئلہ گیانیش کمار کے استعفی کیلئے مطالبہ میں شدت پیدا کرنا اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں کی آزادانہ تحقیقات پر زور دیا جائے گا خاص طور پر ان ریاستوں میں احتجاج میں شدت پیدا کی جائے گی جہاں انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان میں پنجاب ‘ اترپردیش اور اترکھنڈ بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل کانگریس ورکنگ کمیٹی کا ایک اجلاس 29 ستمبر کو منعقد ہونے والا ہے ۔ امکان ہے کہ اجلاس میں کانگریس کی حکمت عملی پر غور ہوگا ۔ سی پی آئی ایم ‘ سی پی آئی اور سی پی آئی ایم ایل نے بھی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔واضح رہے کہ بی جے پی کی کچھ حلیف جماعتیں بھی اس مسئلہ پر الیکشن کمیشن سے وضاحت طلب کر رہی ہیں اور شفافیت کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے ۔