اورنگ زیب کے مقبرہ پر حملے کی دھمکیاں، سیکوریٹی سخت

   

چھترپتی سمبھاجی نگر : پچھلے مہینے ریلیز ہونے والی فلم ’چھاوا‘ کے بعد اورنگ زیب سے متعلق تنازعہ نے ملک بھر میں شدت اختیار کر لی ہے ۔ مختلف سیاسی بیانات اور سوشل میڈیا پر ہونے والی بحثوں کے نتیجے میں کچھ ہندو تنظیموں کے رہنماؤں کی جانب سے خلد آباد میں واقع اورنگ زیب کے مقبرہ کے خلاف اشتعال انگیز زبان استعمال کی گئی اور بعض نے حملے کی دھمکیاں بھی دیں۔ اس پس منظر میں پولیس نے ممکنہ خطرہ کے پیش نظر مقبرہ کے اطراف سخت سیکوریٹی تعینات کر دی ہے ۔ اورنگ زیب کی قبر خلد آباد میں حضرت زین الدین چشتی کے مزار کے احاطہ میں واقع ہے اور حالیہ دنوں میں یہ مقام فلمی تنازعہ ، سیاسی بیانات اور دیگر معاملات کے باعث مرکز نگاہ بن گیا ہے ۔ ریاستی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بھی یہ معاملہ زیر بحث آیا، جہاں حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوا۔ مقامی انتظامیہ اور محکمہ آثار قدیمہ نے مقبرہ کے ارد گرد اضافی فورس تعینات کر دی ہے جو ہر آنے والے زائر اور سیاح پر کڑی نظر رکھ رہی ہے ۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے اس مقام پر ویڈیو شوٹنگ اور فوٹو گرافی پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے ۔ تاہم، تنازعہ کے باعث ملک بھر سے مختلف نیوز چینلز اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندے خلد آباد پہنچ چکے ہیں اور حالات کی مسلسل رپورٹنگ کر رہے ہیں۔

اورنگ زیب تنازعہ : مورخین کے حوالوں کے ساتھ اعظمی کا اسپیکر کو مکتوب
ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی رہنما اور معطل رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے اپنی معطلی کو غلط قرار دیتے ہوئے ودھان سبھا اسپیکر راہل نارویکر کو ایک مکتوب ارسال کر کے اورنگ زیب کوبہتر حکمراں اور منتظم قرار دئیے جانے پر وضاحت پیش کی ہے اور کہا ہے کہ میں نے جو بیان جاری کیا وہ اس وقت دیا جب میں ودھان بھون سے باہر نکل رہا تھا تو عجلت میں مجھ سے صحافیوں نے سوال کیا اور کہا کہ آسام کے وزیر اعلیٰ نے کانگریس رہنما راہل گاندھی کا موازنہ اورنگ زیب سے کیاہے میں نے جو بھی بات کہی وہ مورخین ستیش چندرا، ادرے تشکے ، ڈاکٹر راجیو دکشت ، ڈاکٹر رام پنیان ، اودھ اوجھا ، مینا بھارگو کے کتابوں کے حوالے سے کی ہے اور چھترپتی سنبھاجی مہاراج سے متعلق کوئی قابل اعتراض تبصرہ نہیں کیا ہے میں ان کا احترام کرتا ہوں میرے منہ میں ان باتوں کوڈال کر مجھے بدنام کرنے کی سازش کی جارہی ہے ،جو بات میں نے نہیں کہی۔ انھوں نے کہاکہ اورنگ زیب کے دور اقتدار میں ہندوستان کی سرحدیں افغانستان اور برما تک تھی اور یہ ملک سونے کی چڑیا تھا اس لئے یہاں انگریز قبضہ کرنے کیلئے آئے تھے میں نے اورنگ زیب کو بہتر منتظم کہا تھا چھترپتی سنبھاجی اور شیواجی مہاراج کی اورنگ زیب کی لڑائی سیاسی اور اقتدار کیلئے تھی یہ مذہبی جنگ نہیں تھی میں ذات پات اور مذہبی منافرت پر اعتماد نہیں کرتا ۔
اس لئے میرے بیان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ میں نے جو بھی باتیں کہی ہے وہ مورخین کے حوالے سے کہی ہے اور سنبھاجی مہاراج اور شیواجی مہاراج سے متعلق کوئی بھی قابل اعتراض تبصرہ یا متنازع بیان نہیں دیا ہے ۔ انھوں نے مزید کہاکہ میرا کوئی قصور نہیں ہے اس کے باوجود مجھے بجٹ اجلاس سے معطل کر دیا گیا ہے میری معطلی واپس لی جائے جو باتیں میں نے کہی ہے ان سے متعلق دستاویزات اور مورخیں کے حوالے مکتوب کے ساتھ منسلک کی گئی ہیں اس لئے میری معطلی ختم کی جائے کیونکہ میں عوامی نمائندہ ہوں ۔