صدرنشین وقف بورڈ کو یادداشت کی پیشکشی، اندرون 10 یوم وضاحت نہ کرنے پر عوام سے رجوع ہوں گے
حیدرآباد۔یکم جون، ( سیاست نیوز) کانگریس کے اقلیتی قائدین نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں حکومت کی ناکامی اور مساجد کی تعمیر نو وعدہ کی عدم تکمیل پر آج حج ہاوز میں دھرنا منظم کیا۔ آرگنائزنگ سکریٹری پردیش کانگریس کمیٹی عثمان محمد خاں کی قیادت میں ایس کے افضل الدین، عادل شریف، فاروق قادری، محمد عرفان، مجیب شریف، علیم الدین، سلطان مرزا، مرزا عسکری علی، اعظم علی، ایم اے فرید اور دیگر قائدین و کارکنوں نے مساجد کی دوبارہ تعمیر کے حق میں نعرہ بازی کی۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد مسیح اللہ خاں کو یادداشت پیش کی گئی جس میں تلنگانہ میں شہید کی گئی 7 مختلف مساجد کی تعمیر نو پر وضاحت کا مطالبہ کیا گیا۔ صدرنشین وقف بورڈ کو 19 نکاتی یادداشت حوالے کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے بارے میں جو وعدے کئے تھے ان پر عمل آوری نہیں کی گئی۔ صدرنشین وقف بورڈ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اندرون 10 یوم مختلف امور پر وضاحت کریں جس کے بعد کانگریس پارٹی عوام سے رجوع ہوگی۔ صدرنشین وقف بورڈ نے یادداشت میں پیش کئے گئے امور کا جائزہ لینے اور ضروری کارروائی کا تیقن دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں سنجیدہ ہے اور وقف بورڈ کی جانب سے نہ صرف عدالتوں میں زیر دوران مقدمات کی موثر پیروی کی جائے گی بلکہ ناجائز قبضوں کی برخواستگی کیلئے کوئی کسر باقی نہیں رہے گی۔ یادداشت میں وقف بورڈ کو جوڈیشیل پاور، اسلامک سنٹر کی تعمیر، درگاہ حضرت جہانگیر پیراں ؒ کا ترقیاتی منصوبہ، اجمیر میں رباط کی تعمیر، انیس الغرباء کی تکمیل، ریاست کے مختلف مقامات پر شہید کی گئی 7 مساجد کی تعمیر نو، ہائی کورٹ، ٹریبونل اور دیگر عدالتوں میں زیر دوران مقدمات اور دیگر امور شامل ہیں۔ ر