اولڈ سٹی میٹرو کی راہ میں رکاوٹ اب بھی برقرار ‘ مرکز سے منظوری لینے میں تاحال ناکامی

   

تین اعلی عہدیداروں کی مسلسل کوششیں بھی کامیاب نہیں ہوئیں ۔ میٹرو کا خواب ابھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوا
حیدرآباد ۔ 21 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : پرانے شہر میں ایم جی بی ایس کو فلک نما سے جوڑنے والی 5.5 کلو میٹر میٹرو لائن کی بنیاد برسوں کے انتظار کے بعد رکھی گئی تھی ۔ اس منصوبے کیلئے کل 7.5 کیلو میٹر طویل راہداری کیلئے کلیرنس درکار تھی جس میں روٹ کی تبدیلیوں اور توسیع کا حساب تھا ۔ میٹرو فیز II کے منصوبوں کے حصے کے طور پر اس اولڈ سٹی لائن کی توسیع کیلئے حتمی منظوری حاصل کرنے کا عمل مرکزی حکومت کی سطح پر تعطل کا شکار ہے ۔ متعدد اعلیٰ سطحی عہدیداروں کی موجودگی کے باوجود یہ تنقید بڑھ رہی ہے کہ وہ اس 7.5 کلو میٹر پروجکٹ کیلئے ضروری منظوری اور فنڈز حاصل کرنے مرکز کے ساتھ موثر تال میل میں ناکام رہے ہیں ۔ میٹرو کے نئے اڈیشنل ایم ڈی کے طور پر ذمہ سنبھالنے کے بعد اجیت ریڈی نے اپل ڈپو فیز I آپریشنس اور فیز II کی منصوبہ بندی کرکے سلسلہ وار جائزہ لیا ۔ جی ایم ڈی شیویندر پرتاپ انتظامی امور کی نگرانی کررہے ہیں جب کہ محمد سرفراز احمد ایچ ایم ڈی اے میں اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ میٹرو کیلئے اضافی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں ۔ اگرچہ یہ تینوں باقاعدگی سے جائزے اور میٹنگس کرتے ہیں لیکن انہیں مرکزی حکومت سے ضروری تال میل حاصل کرنے میں ناکامی پر تنقید کا سامنا ہے ۔ فائیلس حرکت میں آرہی ہیں اور پاور پوائنٹ پریزنٹیشنس بنائی جارہی ہیں ۔ اس کے باوجود اولڈ سٹی میٹرو پراجکٹ کی رکاوٹیں اب بھی برقرار ہیں ۔ مرکز کے ساتھ منظوری کا عمل سست رفتاری سے کیوں جارہی ہے اور کیوں ان تین عہدیداروں کی جانب سے حصول اراضی اور تکنیکی رکاوٹوں کو حل کرنے اختیار کی گئی حکمت عملی نتائج دینے میں ناکام ہورہی ہیں۔ ایک طرف آئی ٹی کاریڈور میں میٹرو کے سفر میں بھیڑ بھاڑ ہے ۔ مسافر اس ناراض ہیں کہ حکام میٹرو خدمات کو وسعت دینے میں ناکام ہیں ۔ دریں اثناء اگرچہ پرانے شہر کے باشندے طویل عرصے سے ٹریفک کے خوفناک خواب کو برداشت کررہے ہیں ۔ یہاں تک کہ تین قابل آئی اے ایس افسران کی ایک ٹیم بھی حصول اراضی کو مکمل کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ 7.5 کلو میٹر کی توسیع کیلئے منظوری کیلئے فائل کو آگے بڑھانے میں ناکام رہے ہیں جو مرکز کے پاس زیر التواء ہے ۔ عوام کا تاثر ہے کہ حیدرآباد میٹرو کی توسیع مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی لاپرواہی سے رک رہی ہے ۔ ش k/b