محمدمبشرالدین خرم
رہبراعلیٰ آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت امن و امان کے اعتبار سے جہاں مشرقی وسطیٰ میں امن و امان کے مسائل پیدا ہوئے ہیںاور تمام خلیجی ممالک ایران کے جنون کا سامنا کررہے ہیں وہیں دنیا کے بیشتر تمام ممالک کو معاشی عدم استحکام کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ دنیا کے بیشتر تمام ممالک کو اس جنگ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی معاشی عدم استحکام کے نتیجہ میں بے روزگاری ‘ مہنگائی ‘ سرمایہ نکاسی جیسے سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ اسرائیل ۔امریکہ نے اندرون ایک ہفتہ اس بات کو تسلیم کرنا شروع کردیا ہے کہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کا اندازہ کرنے میں ناکام رہے ہیںکیونکہ جنگ کے آغاز پر نہ صرف امریکہ و اسرائیل بلکہ وہ خلیجی ممالک جو کہ امریکی فضائی پٹی کے ذریعہ امریکہ کی مدد کر رہے تھے ان تمام کا یہ احساس تھا کہ ایران میں رہبر اعلیٰ کی شہادت کے ساتھ ہی ایرانی افواج ہتھیار ڈال دیں گے اور ایرانی عوام حکومت کا تختہ الٹتے ہوئے امریکہ و اسرائیل کا خیر مقدم کریں گے لیکن یہ ممالک اس بات کو فراموش کرچکے تھے ایران میں اب جو نسل ہے اسے رہبراعلیٰ کی نگرانی میں تیار ہونے کا موقع ملا ہے ۔ایران میں 28 فروری کی علی الصبح کی گئی کاروائی کے دوران امریکہ و اسرائیل نے صرف رہبراعلیٰ اور ان کے افراد خاندان کو نشانہ نہیں بنایابلکہ ایران کے شہر ’’میناب‘‘ میں معصوم لڑکیوں کے اسکول کو نشانہ بناتے ہوئے 165 معصوموں کی جان لی تھی لیکن اس کے باوجود دنیا بھر میں عوام کی تائید حاصل کرنے میں ایران ناکام رہا بلکہ ہندستان نے ان حالات کی مذمت کرنے سے گریز کرتے ہوئے ایران سے اپنے دیرینہ روابط کا پاس و لحاظ بھی نہیں رکھا۔
28 فروری کو ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکی واسرائیلی جنگی طیاروں کی کاروائی کے ساتھ ہی ایران نے اپنے دفاع میں جس جنگ کا آغاز کیا ہے اسے ایک ہفتہ ہونے کو ہے اور اس ایک ہفتہ کے دوران دنیا کی سب سے محفوظ تصور کی جانے والی مملکت ’دبئی ‘ سے لوگ سرمایہ نکاسی شروع کرچکے ہیں اور جتنا جلد ممکن ہوسکے دبئی سے باہر نکلنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ خود کو سوپر پاؤر بنائے رکھنے کے لئے دنیا بھر میں جنگی جنون پیدا کرنے والے امریکی صدر کے قصر صدارت ’’وائٹ ہاؤز‘‘ میں موجود اوول آفس میں امریکہ کے سرکردہ پادریوں کو طلب کرتے ہوئے جس توہم پرستی کا مظاہرہ کیا گیا وہ امریکہ کی صورتحال کو ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے۔ ٹیکنالوجی میں خود کو سب سے آگے اورامریکہ جیسے ’سوپر پاؤر‘ کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کا دعویٰ کرنے والے اسرائیل کے وزیر اعظم 2 مارچ سے اب تک عوام کے درمیان نظر نہیں آئے ہیں اور نہ ہی اسرائیل میں ان کی موجودگی کی توثیق کی جا رہی ہے۔بحرین کی سڑکوں پر عوام اپنے حکمرانوں کا تختہ الٹنے کے لئے نکل چکے ہیں‘ پاکستان اور عراق میں عوام نے امریکی سفارتخانوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے ‘ بحرین میں عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں‘ لبنان کے سرحدی علاقوں سے اسرائیل پر حملہ کیا جانے لگا ہے‘ مملکت شام‘ ترکی ‘ اردن و یمن کے علاوہ عمان میں بے چینی کی کیفیت پائی جانے لگی ہے اور سعودی عرب و قطرنے ایران سے پس پردہ ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے ایران سے مذاکرات کا آغاز کرچکے ہیں۔
اسرائیل و امریکہ نے جو جنگ شروع کی ہے اس جنگ میں شامل ممالک کو ہونے والے جنگی نقصانات اپنی جگہ ہے لیکن جنگ مسلط ہونے کے بعد جن معاشی نقصانات کا دنیا کو سامنا کرنا پڑسکتا ہے وہ انتہائی سنگین ہے بلکہ اس تباہ کن معاشی صورتحال سے نکلنے کے لئے ایک یا دو سال نہیں بلکہ 10 سال سے زیادہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اس کے بعد معاشی عدم استحکام کی صورتحال سے کسی قدر نجات ملنے کی پیش قیاسی کی جارہی ہے۔ امریکی اسٹاک ایکسچینج میں کی گئی سرمایہ کاری سے اندرون ایک ہفتہ 800بلین امریکی ڈالر کا سرمایہ تباہ ہوچکا ہے جو کہ ہندستانی روپئے میں اگر دیکھا جائے تو امریکی حصص بازار کو اس ایک ہفتہ میں 73لاکھ 50ہزار کروڑ کا نقصان ہوچکا ہے۔اسی طرح دنیا کے مختلف ممالک کے اسٹاک مارکٹ پر بھی جنگ کے اثرات دیکھے جانے لگے ہیں اور دنیا بھر کی نظریں تیل کی قیمتوں پر جمی ہوئی ہیں جبکہ ایک ہفتہ میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ کے اثرات ہندستان ‘ پاکستان‘ بنگلہ دیش کے علاوہ دیگر ممالک پر نظر آنے لگے ہیں۔جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی ایران نے آبنائے ہرموز پر اپنے کنٹرول کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف تیل کی حمل ونقل کو روکنے کا اعلان کیا ہے بلکہ 35 کیلو میٹر کی اس آبی پٹی پر اپنے محض دوست ممالک کے تیل کے لئے راستہ فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے دنیا کو حیرت میں مبتلا ء کرنے کے ساتھ امریکہ ‘ اسرائیل اور عرب دنیا کے ساتھ جنگ اورباقی دنیا کے ساتھ معاشی جنگ کا اعلان کردیا ہے۔
آبنائے ہرموز سے تیل کی گذرگاہوں کو روکتے ہوئے دنیابھر میں تیل کی قلت پیدا کرنے اور بحران کو تقویت دینے کی حکمت عملی کے ذریعہ ایران نے دنیا کے سوپر پاؤر کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے حالات پیدا کردیئے ہیں اور اگر آبنائے ہرموزسے تیل سے لدی ہوئی کشتیوں کی آمد و رفت کا سلسلہ فوری طور پر شروع نہیں کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں 10 مارچ تک عالمی بازار میں تیل کی قیمت 150ڈالر فی بیارل تک پہنچنے کے خدشات ظاہر کئے جانے لگے ہیں اور خود قطر نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر تیل کی حمل و نقل کو فوری طور پر بحال نہیں کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں تیل کا بحران دنیا بھر کو سنگین حالات کا شکار بنانے کا سبب بن سکتا ہے۔ ابتداء میں آبنائے ہرموز کو بند کئے جانے کے اعلان کے ساتھی ہی ماہرین معاشیات نے اس بات کی توثیق کردی تھی کہ اگر اعلان کے مطابق ایران عمل کرنے لگ جائے تو ایسی صورت میں تیل کی قیمتوں میں 20تا25 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا اور ان قیمتوں میں اضافہ کے نتیجہ میں دنیا کے بیشتر تمام ممالک کو مہنگائی کا شکار ہونا پڑسکتا ہے۔ ہندستان میں حکومت نے تیل اور گیاس کی قیمتوں سے متعلق عوام کو تیقن دیا تھا کہ کسی بھی طرح کی سنگین صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا لیکن 6یوم کے جنگی حالات کا یہ اثر ہوا ہے کہ گھریلو پکوان کے لئے استعمال کئے جانے والے پکوان گیاس سیلنڈرکی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے یہ ثابت کردیاہے کہ ہندستان پر بھی جنگ کے اثرات ہونے لگے ہیں اور حکومت ان حالات میں مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام ہے اسی لئے گیاس کی قیمت میں اضافہ کا بوجھ راست عوام پر منتقل کردیا گیا۔
ہندستان معیشت کے اعتبار سے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ اب مسابقت کررہا ہوگا لیکن اخلاقی اعتبار سے ہندستان کی عالمی طور پر جو اجارہ داری اور قوت ہوا کرتی تھی اس سے موجودہ حکومت کے موقف کے نتیجہ میں ہندستان محروم ہوچکا ہے کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی پتہ نہیں کیوں امریکہ اور اسرائیل کو اپنا 56انچ کا سینہ نہیں دکھا پا رہے ہیں یا پھرکسی ایسی جگہ سینہ دکھانے کی حماقت کرچکے ہیں کہ اب آنکھ لال سوائے شرمندگی کے کسی اور حرکت پر ہونی بند ہوچکی ہے۔رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای ‘ 165 معصوم طالبات کی شہادت ‘کے علاوہ ایران کی خود مختاری پر کئے گئے حملہ کے باوجود ہندستان کی خاموشی نے دنیا بھر میں ہندستان کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن اپوزیشن قائد مسز سونیا گاندھی کے انگریزی اخبار میں شائع ہوئے اداریہ نے دنیا میں ہندستان کے موقف کوپیش کرتے ہوئے مزید تذلیل سے بچالیا ہے لیکن ایران سے آئے IRIS Dena نامی جنگی جہاز جو کہ ہندستان کا مہمان رہا اسے بچانے میں ہندستان کی ناکامی نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے موقف کو دوبارہ سوالات کے کٹگہرے میں لا کھڑا کردیا ہے ‘ راتوں رات دنیا کے 7تا8 ممالک کے سربراہان مملکت سے رابطہ کرتے ہوئے ان کے حالات سے واقفیت حاصل کرنے والے ’وشواگرو‘ نے ہندستانی کرنسی میں تیل کی تجارت کرتے ہوئے ہندستانی معیشت کو مستحکم رکھنے میں مدد کرنے والے ایران سے رابطہ کی کوشش نہیں کی ۔
ایران کو کمزورتصور کرتے ہوئے ایران میں اقتدار کی تبدیلی کا خواب سجائے اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر کئے گئے حملہ کے دندان شکن جواب اور عالمی سطح پر ایرانی عوام بالخصوص رہبراعلیٰ کو حاصل ہونے والی حمایت کے بعد دونوں ممالک ہی نہیں بلکہ ان کی افواج کی مدد کرنے والوں نے بھی اپنی عافیت کے لئے راہیں تلاش کرنی شروع کردی ہیں۔ ابتداء میں امریکہ نے ایران پر جنگ مسلط کرنے سے قبل یہ تاثر دیا تھا کہ چند گھنٹوں میں اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ جنگ ختم ہوجائے گی لیکن ایران پر حملہ کے بعد شروع ہونے والی جوابی کاروائی کے بعد خود امریکی صدر نے اس جنگ کے 4ہفتوں تک جاری رہنے کے امکانات ظاہر کئے ہیں اور ایران اس جنگ کو مزید طول دیتے ہوئے اس جنگ کو صرف میزائیل ‘ جنگی جہاز‘ بحری بیڑوں یا سرحدوں پر جنگ کو محدود رکھنے کے لئے آمادہ نہیں ہے بلکہ طویل مدتی جنگ کے ذریعہ دنیا بھر کی معیشت میں کہرام بپا کرنے کی تیاری میں نظر آرہا ہے۔ایران اگر اس جنگ کو مزید طویل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو ایسی صورت میں صرف امریکی معیشت کو ہی تباہ کن صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا بلکہ دنیا بھر میں حالات تیزی سے تبدیل ہونے لگ جائیں گے اور دنیا بھر میں بے روزگاری اور مہنگائی میں زبردست اضافہ ہوگا جو کہ انتہائی نقصاندہ ثابت ہونے کا خدشہ ہے۔