آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جھڑپیں، درجنوں ہلاک

   

کاراباخ : آذربائیجان اور آرمینیا کی فوجیں نگورنو کاراباخ کے علاقے میں ایک دوسرے پر فائرنگ کر رہی ہیں، جس سے 2020 کی جنگ کے بعد کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ہے۔ فریقین نے اس اشتعال انگیزی کا الزام ایک دوسرے پر عائد کیا ہے۔آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان پیر کی رات کو پھر سے لڑائی بھڑک اٹھی، جس میں تازہ اطلاعات کے مطابق سرحد پر درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ فریقین نے دوجانب کے توپ خانوں سے شدید گولہ باری کی اطلاعات دی ہیں۔یہ لڑائی آذربائیجان کے اندر واقع نگورنو کاراباخ کے اس علاقے میں شروع ہوئی ہے، جس پر آرمینیائی نسل کے علیحدگی پسندوں نے 1991 ء میں قبضہ کر لیا تھا اور پھر اسے ایک علیحدہ جمہوری ریاست ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد اس علاقے کا نام آرت ساخ پڑ گیا تھا۔منگل کی صبح سویرے ایک پریس بریفنگ کے دوران آرمینیا کی وزارت دفاع کے ترجمان آرم توروسیان نے کہا کہ لڑائی جاری رہنے کی وجہ سے صورتحال ’’انتہائی کشیدہ‘‘ ہے۔دونوں ہی ممالک کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے دوسری جانب سے ہونے والی اشتعال انگیزی کے خلاف متناسب جوابی کارروائی شروع کی ہے۔ آرمینیا کی وزارت دفاع نے کہا کہ منگل کو صبح تقریبا ًایک بجے کے بعد آذربائیجان نے توپ خانے اور بڑی صلاحیت والے آتشیں اسلحے کے ساتھ، گورس، سوٹک اور جرموک کے شہروں کی سمت میں آرمینیائی فوجی ٹھکانوں پر شدید گولہ باری کی ۔ لیکن آذربائیجان نے آرمینیائی افواج پر یہ الزام عائد کیا کہ اس نے پیر کی رات کو سرحدی اضلاع دشکیسان، کیلبازار اور لاشین کے قریب بڑی تعداد میں بارودی سرنگیں بچھانے کے ساتھ ہی ہتھیار جمع کر کے بڑے پیمانے پر تخریبی کارروائیاں شروع کی تھیں، اس کی افواج نے آرمینیائی فوج کی اشتعال انگیزی کے رد عمل میں، جو جوابی اقدامات کیے ہیں، وہ مقامی سطح کے ہیں اور ان کا مقصد اس عسکری ساز و سامان کو نشانہ بنانا ہے۔