اپوزیشن قائدین کو ای ڈی کے ذریعہ سمن کی اجرائی کا سلسلہ جاری

   

فاروق عبداللہ‘ ستیندرجین ‘سونیا اور راہول گاندھی کے بعد ٹی آر ایس قائدین پر نظریں !
مہنگائی پر قابو پانے اور مذہبی منافرت پھیلانے کی کوششوں میں ناکامی پر مرکز بوکھلاہٹ کا شکار
حیدرآباد۔یکم۔جون۔(سیاست نیوز) مہنگائی پر قابو پانے میں ناکامی ‘ مذہبی منافرت پھیلانے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد اب مرکز نے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ۔ڈی)کے ذریعہ سمن جاری کروانے کے سلسلہ تیزی پیدا کردی ہے تا کہ ان کے متعلق عوام میں بدظنی پھیلائی جاسکے۔ جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے قد آور قائد فاروق عبداللہ کی ای ڈی کے دفتر میں حاضری‘دہلی کے ریاستی وزیر صحت ستیندر جین کی حالیہ گرفتاری ‘ این سی پی قائد شردپوار کو ای ڈی کا سمن‘ صدرپردیش کانگریس کرناٹک ڈی کے شیوکمار کے بعد اب کانگریس قائدین سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے سمن جاری کئے جانے کے بعد ملک کی کوئی بھی سیاسی جماعت کے قائدین محفوظ نہیں ہیں اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ ہفتہ یا جون کے وسط میں تلنگانہ راشٹر سمیتی قائدین رکن راجیہ سبھا سنتوش کمار‘ ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ‘ رکن قانون ساز کونسل کے کویتااور دیگر کو بھی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے سمن جاری کئے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق ریاست تلنگانہ میں کالیشورم پراجکٹ‘ اراضیات کے ہراج کے علاوہ دیگر معاملات میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی تحقیقات میں شدت پیدا کردی گئی ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ کانگریس رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرتے ہوئے جو تحریری شکایت حوالہ کی تھی اس کے علاوہ صدرپردیش کانگریس اے ریونت ریڈی کی جانب سے سی بی آئی اور ای ڈی کو پیش کئے گئے دستاویزات کی بنیاد پر تحقیقات کی جارہی ہیں اور اس مواد کا جائزہ لیتے ہوئے ریاستی حکومت تلنگانہ کے خلاف کاروائی کا جائزہ لیا جا رہاہے۔ سونیا گاندھی ‘ شردپوار‘ فاروق عبداللہ اور ستیندر جین کے خلاف کاروائی کے آغاز کے ساتھ ہی تلنگانہ راشٹر سمیتی میں بھی اب ہلچل پیدا ہوچکی ہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرشیکھر راؤ قومی سطح پر محاذ کی تیاری کے لئے مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کر رہے ہیں اور اس سلسلہ میں انہوں نے اپنے دورہ ٔ کرناٹک کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئندہ دو ماہ میں قومی سطح پر سیاسی سنسنی پیدا ہونے والی ہے لیکن کے سی آر کے اس بیان کے بعد بی جے پی کی سرگرمیوں اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی کاروائیوں کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ بی جے پی 2024 میں اقتدار کے حصول کیلئے ان تمام کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے جو بی جے پی کیلئے چیالنج ثابت ہوسکتے ہیں۔ 2014 میں اقتدار حاصل کرنے سے قبل بھی بی جے پی نے ملک بھر میں بدعنوانیوں کیخلاف مہم چلاتے ہوئے 2G اسپکٹرم ‘ سی ڈبلیو جی اسکام ‘ کوئلہ اسکام کے ساتھ ساتھ یو پی اے پر مہنگائی کو روکنے میں ناکامی کے الزامات عائد کئے اور مہم چلائی تھی لیکن گذشتہ 8برسوں کے دوران کسی بھی اسکام میں کاروائی کے بجائے مکمل طور پر انہیں نظرانداز کیا گیا اور اب جبکہ انتخابات کا ماحول تیار ہونے لگا ہے تو ایسی صورت میں اپوزیشن جماعتو ںکے قائدین کو ای ڈی کی نوٹس کے ذریعہ بدعنوانیوں میں ملوث قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ای ڈی ذرائع کے مطابق چیف منسٹر تلنگانہ کے قریبی رشتہ داروں کے علاوہ سنتوش کمار‘ کے ٹی آر ‘ کے کویتا اور تلنگانہ کے بعض وزراء ویمولہ پرشانت ریڈی کے علاوہ دیگر دو وزراء اور ان کے قریبی رشتہ داروں اور احباب پر نظر رکھی جا رہی ہے۔م