اپوزیشن کو شکست دینےبی جے پی کچھ بھی کرسکتی ہے

   

امجد خان
ہمارے ملک میں اپوزیشن نے پرزور انداز میں بی جے پی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ووٹ چوری کے ذریعہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی جارہی ہے اور اس معاملہ میں الیکشن کمیشن آف انڈیا اس کا پوری طرح ساتھ دے رہا ہے۔ سابق چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی نے تو ببانگ دہل نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی پر الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ساز باز کے ذریعہ اپوزیشن کے خلاف بی جے پی کی جیت کو یقینی بنانے کا بار بار الزام عائد کیا ہے۔ اس سلسلہ میں مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کے لئے کانگریس کی امیدوار میناکشی نٹراجن کے پرچۂ نامزدگی مسترد کئے جانے کا واقعہ تازہ ترین ثبوت کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ خود میناکشی نٹراجن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات عائد کئے۔ ان کا کہنا تھاکہ جو معاملہ پہلے ووٹ چوری تک محدود تھا اب سیٹ چوری تک پہنچ گیا ہے۔ جہاں تک میناکشی نٹراجن کا سوال ہے 52 سالہ میناکشی نٹراجن 2009 تا 2014 مانڈسورا کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کرتی رہی۔ 14 فروری 2025 کو انہیں کل ہند کانگریس کمیٹی کی تلنگانہ انچارج مقرر کیا گیا۔ میناکشی نٹراجن کی پیدائش مدھیہ پردیش کے اجین میں مقیم ایک ٹامل خاندان میں ہوئی۔ انہوں نے نہ صرف بائیو کیمسٹری میں پوسٹ گریجویشن کیا بلکہ قانون کی بیچلر ڈگری بھی حاصل کی۔ انہوں نے نیشنل اسٹوڈنٹ یونین آف انڈیا میں سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔ 1999-2002 این ایس یو آئی کی صدر اور 2002 تا 2005 مدھیہ پردیش یوتھ کانگریس کی صدر کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دیں جبکہ 2008 میں راہول گاندھی نے انہیں کل ہند کانگریس کمیٹی کا سکریٹری مقرر کیا۔ میناکشی نٹراجن کو 2009 کے پارلیمانی انتخابات میں راہول گاندھی کی ایما پر مدھیہ پردیش کے مانڈسور پارلیمانی حلقہ سے میدان میں اتارا گیا جہاں سے انہوں نے بی جے پی کے طاقتور امیدوار لکشمی نارائن پانڈے کو 30 ہزار سے زائد ووٹوں سے ہرادیا۔ مسٹر پانڈے اُس حلقہ سے 1871 سے مسلسل کامیاب ہورہے تھے لیکن 2017 کے عام انتخابات میں میناکشی نٹراجن کو مانڈسور پارلیمانی حلقہ سے بی جے پی امیدوار سدھیر گپتا نے زائد از 3 لاکھ ووٹوں سے ہرادیا۔ 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں بھی سدھیر گپتا کے ہاتھوں میناکشی نٹراجن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بہرحال مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کے لئے کانگریس نے میناکشی نٹراجن کو نامزد کیا تھا تاہم ان کی نامزدگی مسترد کردی گئی۔ نتیجہ میں بھوپال سے لے کر نئی دہلی تک سیاسی ہلچل مچ گئی ۔ اس سارے معاملہ میں کانگریس نے الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت پر سنگین الزامات عائد کئے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر میناکشی نٹراجن کی نامزدگی کس بنیاد پر مسترد کی گئی؟ اس بارے میں یہ کہا گیا کہ انہوں نے اپنے حلف نامہ میں اپنے خلاف زیر التواء ایک مقدمہ کی تفصیلات درج نہیں کی۔ کانگریس نے اس معاملہ میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے صدر دفتر واقع دہلی پہنچ کر نمائندگی کی کوشش کی لیکن کانگریسی وفد کو کمیشن کے دفتر میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی جواب میں کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی اور الیکشن کمیشن پر ہر جمہوری آواز اور ہر ناراض آواز کو مختلف طریقوں سے دبانے کا الزام عائد کیا۔ کانگریس کے مطابق جب دستوری اداروں کو سیاسی سہولت کے آلہ میں تبدیل کردیا جاتا ہے تو جمہوریت کی سانسیں رک جاتی ہیں۔ ایک بات ضرور ہے کہ مدھیہ پردیش سے میناکشی نٹراجن کا پرچہ نامزدگی مسترد کیا جانا جمہوریت کے لئے بری خبر ہے۔ کانگریس کو امید ہے کہ سپریم کورٹ ہی جمہوریت کو بچانے آگے آئے گی۔ اس سلسلہ میں کانگریس نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے مطالبہ کیا ہے کہ چونکہ نامزدگی واپس لئے جانے کا مرحلہ جاری ہے اور فیصلے کے لئے کافی وقت ہے۔ ایسے میں الیکشن کمیشن کو فوری مداخلت کرتے ہوئے ریٹرننگ آفیسر کے حکم کو کالعدم قرار دے۔ کانگریس کے اعلیٰ سطحی وفد نے چیف الیکشن کمشنر اور دوسرے در کمشنران سے ملاقات کرتے ہوئے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کو جمہوری اصولوں کے مغائر غیر قانونی اور جانبدارانہ قرار دیا ہے۔ اس وفد میں ابھیشیک مانوسنگھوی، وویوتنکھاجی، رندیپ سنگھ سرجے والاجی، جئے رام رمیش، جی دیپاداس منشی جی، بھوپشیں باگھل جی، خود میناکشی نٹراجن اور کے سی وینو گوپال شامل تھے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ کانگریس کے سینئر لیڈر اور ماہر قانون ڈاکٹر ابھیشیک منوسنگھوی نے الیکشن کمیشن کے روبرو پورے دلائل کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ریٹرننگ آفیسر کا حکم قانونی بنیادوں سے محروم اور سراسر غلط ہے۔ انہوں نے پرزور انداز میں یہ دلیل بھی پیش کی کہ قانونی عوامی نمائندگی کی دفعہ 33A واضح طور پر کہتی ہے کہ کسی امیدوار کے لئے صرف ان ہی فوجداری مقدمات کی تفصیلات ظاہر کرنا ضروری ہے جن میں دو سال سے زائد سزا کی گنجائش ہو اور جن میں عدالت کی جانب سے باقاعدہ طور پر فرد جرم عائد کی جاچکی ہو ۔ اس طرح میناکشی نٹراجن کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ نہیں بنتا۔ منو سنگھوی کے مطابق میناکشی نٹراجن کی نامزدگی ایسے وقت مسترد کردی گئی جب ان کے خلاف نہ تو عدالت نے نوٹس لیا تھا اور نہ ہی کوئی فوجداری مقدمہ قانونی طور پر وجود میں آیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی کے ریاستی جنرل سکریٹری راہل کوٹھاری نے میناکشی نٹراجن کی نامزدگی پر اعتراض کیا تھا نوین ایکسپریس میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق کوٹھاری نے حیدرآباد کی ایک عدالت میں زیر سماعت ایک نجی شکایات کا حوالہ دیا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ تلنگانہ پردیش کانگریس اور تلنگانہ حکومت کی ایک ذمہ دار شخصیت نے میناکشی نٹراجن کے خلاف اس بارے میں بی جے پی قائدین سے مخبری کی۔ خود مدھیہ پردیش کے وزیر اور بی جے پی کے سینئر لیڈر کیلاش وجئے ورگیہ کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی کو نٹراجن کے خلاف شکایت کی دستاویز تلنگانہ سے ملی ہے۔ ویسے بھی کانگریس میں غداروں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش کے سابق چیف منسٹر کمل ناتھ نے بہت اچھی بات کہی کہ کانگریس امیدوار کو شکست دینے بی جے پی نے سیاسی اخلاقیات اور جمہوری اقدار و روایات کی تمام حدیں پار کردیں۔ حد تو یہ ہے کہ کانگریس ارکان اسمبلی کو بیرون ریاست لے جارہی پرواز کو دانستہ طور پر تاخیر کا شکار بنایا گیا۔ آپ کو بتادیں کہ کانگریس نے اپنے ارکان اسمبلی کو کرناٹک بھیجنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن بی جے پی نے اپنی عیاری مکاری کے ذریعہ ناکام بنادیا۔ حیران کی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کے باوجود میناکشی نٹراجن کو کوئی راحت نہیں ملی اور سپریم کورٹ نے معاملہ کی سماعت سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ یہ معاملہ سنا تو نئی روایت شروع ہوجائے گی ۔ بہرحال خود بی جے پی اور بی آر ایس قائدین کا الزام ہے کہ تلنگانہ کانگریس کے ایک بڑے لیڈر نے بی جے پی سے میناکشی نٹراجن کے خلاف مخبری کی ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہائی کمان کیا کارروائی کرتی ہے۔