پارلیمنٹ میں بی آر ایس کا احتجاج، چیف جسٹس آف انڈیا کے ذریعہ تحقیقات کی تجویز
حیدرآباد۔2۔ فروری (سیاست نیوز) بی آر ایس ارکان پارلیمنٹ نے صنعتکار اڈانی کی کمپنیوں کے خسارہ معاملہ کی پارلیمانی مشترکہ کمیٹی یا چیف جسٹس آف انڈیا کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اڈانی معاملات پر احتجاج کے بعد نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بی آر ایس پارلیمانی پارٹی کے قائدین ڈاکٹر کے کیشو راؤ اور ناما ناگیشور راؤ نے کہا کہ اڈانی کی کمپنیوں کے اچانک خسارہ سے ملک کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ کمپنی کی سرگرمیوں کے بارے میں امریکی ادارہ ہنڈن برگ کی رپورٹ کی بنیاد پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت جے پی سی کے لئے تیار نہیں تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے ذریعہ تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ایوانوں میں اس مسئلہ پر مباحث کیلئے بی آر ایس کی جانب سے نوٹس دی گئی لیکن اپوزیشن کے مسلسل احتجاج پر کارروائی کو ملتوی کردیا گیا۔ اپوزیشن کی تمام جماعتیں ایک آواز ہوکر پارلیمنٹ میں مباحث کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی حکومت اڈانی معاملات پر مباحث سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بی آر ایس ارکان پارلیمنٹ نے مرکزی حکومت سے سوال کیا کہ وہ اڈانی معاملات میں موقف کی وضاحت کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر لوک سبھا نے مباحث کے مطالبہ کو قبول نہیں کیا۔ کیشو راؤ نے کہاکہ ایل آئی سی کے علاوہ دیگر قومیائے ہوئے بینکوں میں اڈانی کی بھاری سرمایہ کاری ہے اور ان اداروں کو نقصان سے لاکھوں کی تعداد میں عوام کو نقصان ہوگا۔ ملک میں سنگین نوعیت کے اس معاشی اسکام پر مباحث کی ضرورت ہے۔ بی آر ایس ارکان پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مباحث کے مطالبہ پر قائم رہیں گے۔ر