بھوبنیشور۔30؍جون ( ایجنسیز )بالی ووڈ فلموں اور ان کے نغموں کا جنون ہندوستان میں کس قدر سر چڑھ کر بولتا ہے یہ تو ہم سبھی جانتے ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جس نغمہ پر آپ ٹی وی یا شادیوں میں جھومتے ہیں وہی نغمہ ایک دن چھوٹے بچوں کی نصابی کتاب کا حصہ بن جائے گا؟ ’قومی تعلیمی پالیسی 2020‘ کے تحت تیار کی گئی اڈیشہ کے اسکولوں کی کتابوں میں ایک ایسی بڑی لاپروائی سامنے آئی ہے جس نے سبھی کو حیران کر دیا ہے۔اڈیشہ میں 8 ویں کی آرٹ ایجوکیشن کی کتاب ’کیرتی‘ کے ایک باب ’مو سنگیت جگت‘ (سنگیت کی میری دنیا) میں بالی ووڈ اداکارہ ایشوریہ رائے اور سلمان خان کی 1999 کی مشہور فلم ’ہم دل دے چکے صنم‘ کے سپرہٹ نغمہ ’نمبوڑا، نمبوڑا‘ کے مکمل بول شائع کر دیے گئے ہیں۔ اس نغمہ کو راجستھانی لوک گیت کے طور پر کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فلم ’مشن کشمیر‘ کا مشہور گانا ’رند پوش مال‘ بھی اس کتاب کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔جیسے ہی یہ خبر اور کتاب کے صفحات کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، انٹرنیٹ پر میمز کی بارش شروع ہو گئی۔ لوگ مذاق میں کہنے لگے کہ اب بچے اسکول میں پڑھائی نہیں بلکہ بالی ووڈ ڈانس کی تربیت لیں گے۔ اس درمیان اساتذہ، والدین اور ماہرین تعلیم نے اس پر گہری تشویش اور ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اڈیشہ کی اپنی ایک بھرپور ثقافتی وراثت اور خوبصورت اْڑیہ لوک گیت موجود ہیں۔
پھر بچوں کو ریاست کی ثقافت سکھانے کے بجائے بالی ووڈ نغموں کے بول کیوں پڑھائے جا رہے ہیں؟یہ تنازعہ اس وقت مزید بڑھ گیا جب یہ بات سامنے آئی کہ اڈیشہ کی نئی نصابی کتابوں میں صرف یہی ایک غلطی نہیں تھی بلکہ مختلف درجات کی کتابوں میں مجموعی طور پر 1,678 غلطیاں اور خامیاں پائی گئی ہیں۔ معاملہ بڑھتا دیکھ کر اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ موہن چرن مانجھی اور اسکول و عوامی تعلیم کے وزیر نتیانند گونڈ نے اس پر فوری سخت نوٹس لیا ہے
۔وزیر اعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ بچوں کی تعلیم کے ساتھ کسی بھی قسم کی لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔
مستقبل میں ایسی غلطیوں سے بچنے کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس نے 14 اہم تجاویز پیش کی ہیں جن میں کتابوں کی باریک بینی سے جانچ کیلئے ’کوالٹی ایشورنس سیل‘ قائم کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔