اگر مسلمان وزیر اعظم بنے تو 50 فیصد ہندو قبول کرلیں گے اسلام، ہندو پنچایت میں مہنت نرسنہا نند نے دیا متنازعہ بیان

   

متنازعہ بیانات اور تبصروں کے لئے مشہور ڈاسنا دیوی مندر کے مہنت یتی نرسنہا نند سرسوتی نے اتوار کو اپنے اس ایک اور تبصرہ کے ساتھ تنازعہ کھڑا کردیا ہے کہ اگر کوئی مسلمان ہندوستان کا وزیر اعظم بنتا ہے تو 20 سالوں سے 50 فیصد ہندو مذہب تبدیل کرلیں گے۔ دہلی میں منعقد کی گئی ایک ’ہندو مہاپنچایت‘ کو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ہندووں کو اپنے وجود کے لئے لڑنے کے لئے ہتھیار اٹھانے کی بھی اپیل کی۔اس ہندو مہا پنچایت کا انعقاد براڑی میدان میں اسی گروپ کے ذریعہ کیا گیا تھا، جس نے پہلے ہری دوار میں اور قومی راجدھانی کے جنتر منتر پر اسی طرح کے متنازعہ پروگرام منعقد کئے تھے، جہاں مسلم مخالف نعرے لگائے گئے تھے۔ اس ہندو مہا پنچایت کے لئے دہلی انتظامیہ نے اجازت نہیں دی تھی۔