اگر میں صدر ہوتا تو روس۔ یوکرین تنازعہ24 گھنٹوں میں ختم کردیتا : ٹرمپ

   

واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر وہ اب بھی صدر کے عہدہ پر رہتے تو روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع کو 24 گھنٹے کے اندر مذاکرات کے ذریعہ ختم کر دیتے ۔امریکہ کے ہفت روزہ نیوز ویک نے ٹرمپ کے حوالے سے کہا کہ ‘‘اگر میں صدر ہوتا تو روس اور یوکرین کی جنگ کبھی شروع نہ ہوتی، لیکن اس کے بعد بھی میں اس خوفناک اور تیزی سے بڑھتی ہوئی جنگ کو 24 گھنٹوں کے اندربات چیت کے ذریعہ ختم کرنے کا عزم کر لیتا۔ انہوں نے تنازعہ کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے 31 ایم1اے 1ابرامز ٹینک یوکرین بھیجنے کے فیصلے کے نتیجے میں روس کی جانب سے یوکرین پر مزید تیزی سے ایٹمی حملہ کیا جا سکتا ہے جو کہ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے ۔واضح رہے کہ بائیڈن نے گزشتہ چہارشنبہ کو اعلان کیا تھا کہ امریکہ یوکرین کو 31 ابرامز ٹینک بھیجے گا۔