سپریم کورٹ میں درخواست مسترد، 2 کے بجائے 3 سال میں کامیاب کرنے کی ہدایت
حیدرآباد۔30۔مئی ۔(سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے 23اگسٹ 2010 سے قبل تقرر حاصل کرنے والے اساتذہ کو TET سے مستثنیٰ قرار دینے کے لئے داخل کی گئی درخواست کومسترد کرتے ہوئے اس بات کی ہدایت دی کہ اساتذہ جو خدمات انجام دے رہے ہیں انہیں 2کے بجائے 3سال کی مدت کے دوران TET میں کامیابی حاصل کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ جسٹس دپانکر دتا ‘ جسٹس منموہن نے جاریہ ماہ کے وسط میں 13 مئی کو اس معاملہ کی تفصیلی سماعت کے بعد فیصلہ کو محفوظ کیا تھا جو کہ 29مئی کو جاری کیاگیا۔ اسکول ٹیچرس فیڈریشن آف انڈیا کے علاوہ اساتذہ کی مختلف تنظیموں ‘ یونینوں ‘ و ریاستی حکومتوں کی جانب سے سپریم کورٹ کے احکامات کو چیالنج کرتے ہوئے درخواست داخل کی تھی جن میں ریاستی حکومت تلنگانہ کی درخواست بھی شامل تھی۔ سپریم کورٹ نے تمام ریاستی حکومتوں کو اس بات کی ہدایت دی کہ وہ ہر 6ماہ میں ایک مرتبہ TET ٹیچرس کے اہلیتی امتحان کا انعقاد کریں تاکہ قانون حق تعلیم کے تحت موجود رہنمایانہ خطوط کے مطابق خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو متعدد مواقع حاصل ہوں اور وہ ان اہلیتی امتحانات میں شرکت کے ذریعہ اپنی اہلیت کو ثابت کرسکیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اساتذہ کو TET سے مستثنیٰ قرار دیئے جانے کی درخواست کو مسترد کئے جانے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اساتذہ کی تنظیموں کی جانب سے کہا جار ہاہے کہ سرکاری اساتذہ جو برسوں سے پیشہ تدریس سے وابستہ ہیں وہ اب ٹیچرس کے اہلیتی امتحان کامیاب کرنے کے لئے مجبور ہورہے ہیں۔ نیشنل کونسل فار ٹیچرس ایجوکیشن اور ریاستی حکومت کی جانب سے اساتذہ کے لئے TETکے بغیر ہی ملازمت کی فراہمی اور ان کی برقراری کو یقینی بنائے جانے کے بعد اب اچانک انہیں TET کامیاب کرنے کی شرط عائد کی جا رہی ہے ۔ تلنگانہ اسٹیٹ یونائیٹڈ ٹیچرس فیڈریشن کے ذمہ داروں نے سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ قانون حق تعلیم کی دفعہ 23 میں ترمیم کے ذریعہ برسرکار اساتذہ کی ملازمتوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں تاکہ انہیں قانونی طور پر تحفظ حاصل ہوسکے اور ملازمت سے محرومی کا انہیں کوئی خدشہ نہ رہے۔جسٹس دپانکر دتا اور جسٹس منموہن کے اس فیصلہ کے بعد سرکاری اساتذہ کو TET کے اہلیتی امتحان میں کامیابی لازمی قرار دی جاچکی ہے لیکن انہیں 3 سال کے دوران 6مرتبہ TET میں حصہ لیتے ہوئے کامیابی کا موقع حاصل رہے گا۔3