رویش کمار
امریکہ اور ایران کے درمیان یادداشت مفاہمت پر دستخط ہوگئیں ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ لاکھ مرتبہ ایران پر بم گرانے سے متعلق بیانات دیتے رہے لیکن جس کاغذ پر انھوں نے دستخط کئے ہیں اس پر ایران ہی بھاری دکھائی دے رہا ہے اِسی لئے بڑے بزرگوں نے کہا ہے کہ سیاسی لیڈران اپنی تقاریر میں کچھ بھی بولتے رہیں دیکھا کرو کہ کاغذ پر کیا لکھا ہے۔ سرکاری کاغذ کی قیمت ہوتی ہے اس کی اہمیت ہوتی ہے، تقریر کی قیمت نہیں ہوتی اور کاغذ میں یہی لکھا ہے کہ امریکہ نے اپنی شکست کئی طرح سے مان لی ہے۔ ایران نے دنیا کی سب سے بڑی معاشی جنگ جیتی ہے۔ امریکہ میں تیل کے دام بلندیوں پر پہنچے، ٹرمپ کو پتہ چل گیا کہ عوام ایک طویل عرصہ تک برداشت نہیں کریں گے اور ایران ایک طویل مدت تک میدان سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ایران نے ہوا، پانی اور زمین سے جنگ کی تمام تھیوری کو بے کار کردیا۔ اپنی حکمت عملی کا ایسا استعمال کیاکہ امریکہ گھٹنوں پر آگیا۔ یادداشت مفاہمت پر دستخط کرنے کے بعد یہ سوال اُٹھا کہ ٹرمپ امریکہ کے عوام کو کیسے سمجھائیں گے کہ اس معاملت میں امریکہ کی جیت ہوئی ہے۔ ایک صحافی نے ٹرمپ سے کہا 2020ء میں کسی عقلمند شخص نے کہا تھا کہ ایران بھلے جنگ میں ہار جائے مگر بات چیت میں ہمیشہ جیت جاتا ہے۔ ٹرمپ نے اس صحافی سے پوچھا وہ عقلمند کون تھا؟ تو اس نے کہا ڈونالڈ ٹرمپ، تو کیا اس بار بھی ایران بات چیت میں جیت گیا ہے۔ ٹرمپ کو ایسا پریس چاہئے جو اس ڈیل کو لے کر امریکہ کی جیت کے دعوے کرے۔ ٹرمپ کو اس طرح کا میڈیا ہندوستان سے اُدھار میں مل جائے گا۔ ویسے امریکہ میں بھی گودی میڈیا کا ظہور ہوچکا ہے لیکن وہاں اب بھی سی این این، نیویارک ٹائمس لکھ رہے ہیں کہ معاہدہ دستاویزات ایران کے سامنے امریکہ کے گھٹنے ٹیکنے کی دستاویز ہے۔ 28 فروری کو جب ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ایران پر حملہ کیا تب لوگوں کو ایسا محسوس ہوا کہ ایران کا وجود مٹ جائے گا۔ دونوں ایران کو چٹکیوں میں مسل دیں گے مگر ہوا اُلٹا۔ ٹرمپ نے جس یادداشت مفاہمت پر دستخط کیا ہے اس پر آگے بڑھنے کی 5 شرائط مانی گئی۔ پہلی شرط یہی ہے کہ جنگ کو ختم کرنا ہوگا ۔ اسے جس نے شروع کیا تو ہار کس کی ہوئی، امریکہ کی اس کے علاوہ چار اور شرائط سے امریکہ ایران کی بندرگاہوں سے رکاوٹیں ہٹائے گا۔ یہ بھی اسی کی ہار ہے۔ تیسری شرط یہ ہے کہ ایران کا ضبط شدہ یا منجمد شدہ پیسہ دینا ہوگا، یہ بھی امریکہ کی ہار ہے۔ چوتھی شرط ہے کہ ایران کے تیل کی تجارت پر جو پابندی ہے وہ ہٹانا پڑے گا۔ یہ بھی اسی کی ہار ہے۔ ان 5 شرائط میں 4 شرائط امریکہ کو پوری کرنی ہے پر ایران کو صرف ایک شرط پوری کرنی ہے اور وہ یہ ہیکہ ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت شروع کرنی ہے۔ ٹرمپ فرانس کے ورسائے پیالس میں بیٹھ کر جب یادداشت مفاہمت پر دستخط کررہے تھے اُن کے ساتھ فرانسیسی صدر میکرون تھے، اُن کے پیچھے سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو جو بتاتے رہے تھے کہ کہاں دستخط کرنی ہے۔ اس میز کی دوسری طرف ان کے کابینی رفقاء بیٹھے تھے۔ امریکہ کے 250 سالہ جشن آزادی کے موقع پر میکرون نے ورسائے پیالس میں ڈنر کا اہتمام کیا۔ ڈنر سے پہلے ٹرمپ نے یادداشت مفاہمت پر دستخط کئے۔ ایران کی طرف سے صدر مسعود پزشکیان تہران میں بیٹھے تھے۔ اُنھوں نے ڈیجیٹل ذریعہ کا استعمال کرتے ہوئے دستخط کئے۔ ایران نے اسے اپنی طرف سے کوئی بڑا ایونٹ نہیں بنایا۔ پریس اور وزراء کو لے کر نہیں آئے، یہ اس کی خود اعتمادی ہے کہ امریکہ کے ساتھ اتنی بڑی معاملت کرنے کے لئے صدر پزشکیان کافی ہیں۔ انھوں نے اسی لئے تہران سے دستخط کئے فرانس نہیں گئے۔ ایران نے ایک طرح سے جواب دیا ہے کہ آپ ایران کی قیادت کو ختم کرنا چاہتے تھے بدل دینا چاہتے تھے مگر ایران اپنے لیڈر میں کتنا یقین رکھتا ہے اس کے فیصلے پر بھروسہ جتاتا ہے۔ ٹرمپ اپنی طرف سے بار بار یہی یقین دلانا چاہتے ہیں کہ امریکہ کی جیت ہوئی ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم جو حاصل کرنا چاہتے تھے کرچکے ہیں۔ اقتدار تبدیل ہوگیا۔ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔ ہم نے ایران کی پہلی اور دوسری صف کی قیادت کو مار ڈالا۔ تیسری صف کے لیڈروں سے بات کررہے ہیں جو سمجھدار ہیں لیکن کیا یہ اصل میں ٹرمپ کی جیت مانی جاسکتی ہے۔ خود امریکہ کے اخبار ہیڈ لائن میں لکھ رہے ہیں کہ ٹرمپ یہ جنگ ہار گئے۔ ایران کی سب سے بڑی جیت یہی ہے کہ اس معاملت کے بعد پریس سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے نیتن یاہو کے بارے میں کیا کچھ نہیں کہا۔ لبنان اس سمجھوتہ کی پہلی شرائط میں ہے جس پر اسرائیل حملہ نہیں کرے گا اور یہ طے امریکہ اور ایران کے درمیان ہوا تو جیت کس کی ہوئی، ایران کی ہوئی۔ ڈانٹ کس کو پڑی کرایہ کے وشوا گرو نیتن یاہو کو۔ جنگ شروع ہوئی تو ٹرمپ ایران کے لیڈروں کو شیطان کہا کرتے تھے، ختم ہوئی تو نیتن یاہو کو عجیب و غریب مشورے دینے لگے ہیں، شیطان کہنا باقی رہ گیا ہے۔ یہی ایران کی جیت ہے۔ اس ڈیل کے بعد ٹرمپ نے نیتن یاہو کو لے کر جتنے بھی الفاظ استعمال کئے انھیں صرف ہتک آمیز ہی کہا جاسکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہاکہ امریکہ کے بغیر اسرائیل کا کوئی وجود ہی نہیں، میرے بناء اسرائیل نہیں بچے گا۔ انھوں نے کہاکہ نیتن یاہو گریٹ پارٹنر رہے ہیں لیکن کبھی کبھی ضرورت سے زیادہ جذباتی ہوجاتے ہیں ایسا بھی نہیں کہ ریگستان میں کوئی ڈرون اترے تو ہر بار انھیں کوئی عمارت بم سے اُڑانی پڑے۔ مطلب نیتن یاہو کی ناسمجھی پر ٹرمپ طعنے مار رہے ہیں۔ نیتن یاہو کے منصوبوں کی بنیاد پر ایران پر حملہ ہوا اور نیتن یاہو کو ٹرمپ نے سب سے فالتو بنادیا۔ نیتن یاہو نے کہاکہ ایران پر مکمل جیت حاصل کریں گے لیکن انھیں ٹرمپ کے یادداشت مفاہمت کو قبول کرنا پڑرہا ہے۔ ٹرمپ کی تنقید کو زہر کے گھونٹ کی طرح پینا پڑرہا ہے۔ اسرائیل میں چار ماہ بعد انتخابات ہونے والے ہیں اور نیتن یاہو الگ تھلگ پڑگئے ہیں۔ جغرافیائی سیاست کے حساب سے دیکھئے اگر امریکہ جیتا ہوتا تو نیتن یاہو بھی ان کے ساتھ کھڑے فوٹو کھنچوارہے ہوتے۔ کہا جارہا ہے کہ ہار امریکہ کی ہوئی ہے مگر اصل ہار تو نیتن یاہو کی ہوئی ہے، اسرائیل کی ہوئی ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کی شرمناک ہار کو اپنے سینے پر لے لیا۔ اسرائیل کو بے عزتی و توہین سے بچاکر ساری بے عزتی و توہین ٹرمپ خود پی رہے ہیں مگر نیتن یاہو کو کنارے بھی لگارہے ہیں۔ ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ امریکہ کی دوستی نبھائی یہاں تک لیکن نیتن یاہو کو معاف نہیں کیا۔ ٹرمپ نیتن یاہو کی جیب سے نکل آئے جو بھی ٹرمپ کو اسرائیل کا پیادہ سمجھتے تھے وہ غلط ثابت ہورہے ہیں۔ 28 فروری کو جنگ سے پہلے وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل چلے گئے، کسی ایوارڈ کو قبول کرنے۔ دنیا حیران تھی کہ نریندر مودی ہی کیوں گئے شاید انھیں محسوس ہوا ہوگا کہ ٹرمپ نیتن یاہو کی جوڑی ایران کو مسل دے گی اور وہ اس علاقہ میں فاتح کے ساتھ فوٹو کھنچواتے نظر آئیں گے اور دونوں کی بس میں سوار ہوجائیں گے لیکن اب تو ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بس سے اُتار دیا ہے۔ ایران جیسے پرانے دوست کو چھوڑ کر نیتن یاہو سے وزیراعظم مودی کی دوستی کی تصویر اب کوئی بھی تاریخی نہیں بتا سکتا۔ نیتن یاہو منظر عام سے غائب ہیں۔ میز پر امریکہ اور ایران تھے اور رہیں گے۔ امریکہ نے اسرائیل کو میز پر لانے کے بارے میں سوچا بھی نہیں اور کچھ کہا بھی نہیں کہ اسرائیل بات چیت کی میز پر کیوں نہیں۔ جب اسرائیل کو ضروری مان لیا گیا تھا اس اسرائیل کی حالت دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ایران ہار گیا۔ سمجھوتہ بعد میں ہوگا اس کا انجام کیا ہوگا کوئی نہیں جانتا لیکن اس مرتبہ اسرائیل کے ساتھ جو ہوا ہے اس سے توہین آمیز کچھ اور نہیں ہوسکتا۔ AXIOS ایک ویب سائٹ ہے اس نے لکھا ہے کہ نیتن یاہو کا حامی میڈیا جو موافق ٹرمپ ہوا کرتا تھا، اب ٹرمپ مخالف ہوگیا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے جب معاملت کا اعلان کیا تو نیتن یاہو حیران رہ گئے۔ انھیں اس کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔ یادداشت مفاہمت پر دستخط ہونے سے دو دن پہلے تک اسرائیل کے حکام نے یہی کہا کہ انھیں ڈیل پر نظرثانی کرنے کی اجازت نہیں ملی ہے۔ ٹرمپ جس ورسائے پیالس میں معاہدہ پر دستخط کررہے تھے، اگر اس کی تاریخ کا احساس ہوتا تو کم سے کم ٹرمپ اس جگہ نہیں جاتے۔ شائد میکرون کو ورسائے پیالس اور اس کی تاریخ کا احساس رہا ہوگا اور انھیں پتہ ہوگا کہ 107 سال پہلے ایک اور ہار طے ہوئی تھی کسی اور ملک کی توہین ہوئی تھی، مائیکرون ٹرمپ کو بڑی چالاکی سے ورسائے پیالس میں لے آئے۔