ایران جنگ کے باعث عراق کے مالی وسائل قریب الختم

   

بغداد ۔ 15 اگست (ایجنسیز) آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث عراق اپنی ضرورت کے مطابق تیل برآمد نہیں کر پا رہا، جس سے ملک کے بڑے سرکاری شعبہ کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے، جبکہ ملازمین کی تنخواہوں میں تاخیر کے خلاف احتجاج بھی شروع ہوچکا ہے۔ اگرچہ عراق کے کئی حصے آبنائے ہرمز سے ہزاروں کلومیٹر دور ہیں، تاہم اس اہم آبی گزرگاہ کی ناکہ بندی نے عام عراقی شہریوں کی زندگی بھی مشکل بنا دی ہے۔ گزشتہ تقریباً تین ماہ سے محمود ولید کو تنخواہ مسلسل تاخیر سے مل رہی ہے۔ 38 سالہ ٹیچر عراقی وزارت تعلیم کے ملازم ہیں، اور ان جیسے ہزاروں عراقی سرکاری ملازمین کو وقت پر تنخواہیں نہیں مل رہیں۔ موصل سے تعلق رکھنے والے ولید نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہہمیں اب زیادہ سے زیادہ یقین ہو رہا ہے کہ ہمیں اخراجات کم کرنے اور ہنگامی حالات کے لیے کچھ رقم الگ رکھنے کی ضرورت ہے، کم از کم اس وقت تک جب حالات معمول پر نہیں آ جاتے۔ یہ صورتحال واقعی بے چینی اور خوف پیدا کرتی ہے۔ اگست کے آغاز میں تنخواہوں میں تاخیر کے خلاف کئی احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے۔ ملک بھر کی جامعات کے ملازمین اور وزارت بجلی کے کارکنوں نے بھی مظاہرے کئے۔