واشنگٹن ۔ 23 ستمبر (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے چہارشنبہ کے روز اعلان کیا کہ امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے نیویارک میں ایران کی نمائندگی کرنے والے ثالثوں کے ساتھ تقریباً تین گھنٹے تک ملاقات کی۔ انہوں نے مذاکرات کو ’’بہت اچھا اور انتہائی نتیجہ خیز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل قریب میں ایک اور ملاقات بھی ہوگی۔نیویارک میں عرب اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے نیویارک میں ایرانی وفد کے ساتھ ’’بہترین‘‘ ملاقات کی۔تاہم انہوں نے کہا کہ تہران کے سامنے دو راستے ہیں، جن میں سے ایک ’’انتہائی خراب‘‘ ہے جبکہ دوسرا عظمت کی جانب لے جاتا ہے، جیسا کہ ان کے الفاظ تھے۔ٹرمپ نے مزید کہا: اسٹیو اور جیرڈ نے آج ایران کی نمائندگی کرنے والے ثالثوں کے ساتھ انتہائی نتیجہ خیز ملاقات کی۔ یہ محض ثالث ہیں، اب دیکھتے ہیں کہ معاملات کس سمت جاتے ہیں۔ ثالثی کی یہ کوشش کچھ عرصے سے جاری ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ معاہدہ تک پہنچنے کیلئے بہت زیادہ پیشرفت ہو رہی ہے، کم از کم ہم سب سے یہی سن رہے ہیں۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عرب اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں اور نمائندوں سے ملاقات کے دوران پیش گوئی کی کہ ایران کے ساتھ جنگ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ختم ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ایران مکمل طور پر معاشی طور پر تنہا ہو چکا ہے۔
ٹرمپ نے کہا: ’’ایران میں ہم نے دہشت گرد قیادت سے مکمل طور پر چھٹکارا حاصل کر لیا اور اس کی معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔ وہاں افراطِ زر کی شرح اب 300 فیصد ہے اور کرنسی تباہ ہو چکی ہے۔ یہ سب ’معاشی تنہائی‘ کے عمل کا حصہ ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا: اس سلسلے میں امریکی محکمہ خزانہ نے شاندار کام کیا ہے۔ ہم نے ایران کو مکمل طور پر معاشی طور پر تنہا کر دیا ہے اور اس پر دباؤ ڈال رہے ہیں تاکہ وہ بہت دیر ہونے سے پہلے جلد از جلد درست فیصلہ کرنے پر مجبور ہو۔ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں ایرانی تنصیب ’’جبل الفاس‘‘ کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہاں بڑے پیمانے پر جوہری سرگرمی دیکھی گئی تو امریکہ اس مقام پر حملہ کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا: ضرورت پڑی تو ہم ایرانی تنصیب جبل الفیس پر بمباری کریں گے۔انہوں نے مزید کہا: ہم نے جو کچھ بھی کیا، اس کا بڑا حصہ، شاید 99 فیصد، اس بات کو یقینی بنانے کیلئے تھا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ کچھ مقامات پہلے ہی تباہ کیے جا چکے ہیں اور شاید ہمیں ایک اور مقام کو بھی تباہ کرنا پڑے، جو ’جبل پیکاکس‘ ہے۔ یہ درست ہے کہ اس وقت ہمیں وہاں کوئی بڑی سرگرمی نظر نہیں آ رہی، لیکن اگر ہمیں کوئی سرگرمی نظر آئی تو ہم اسے فوری طور پر تباہ کر دیں گے۔