مختلف مذاہب ‘ عقیدے اور علاقوں کی ہزاروں خواتین کی شرکت
واشنگٹن: ایران میں مہسا امینی کی موت کے بعد ہونے والے ملک گیر مظاہروں کی حمایت میں ایرانی نژاد سمیت ہزاروں افراد نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں مارچ کیا۔ میڈیاکے مطابق ان لوگوں نے نیشنل مال سے شروع ہونے مارچ میں ‘خواتین، زندگی، آزادی’ اور ‘ایران کے لیے انصاف’ جیسے نعرے لگائے۔منتظمین میں سے ایک سماک آرام نے بتایا کہ ریلی کے اختتام تک لوگوں کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ ہو گئی اور یہ واشنگٹن میں اس طرح کی پانچویں ریلی ہے، جو ایران میں خواتین کی جانب سے جاری احتجاج سے اظہار یکجہتی میں نکالی گئی۔ مہسا امینی کی ہلاکت کے خلاف ایران میں احتجاج چھٹے ہفتے میں داخل ہوچکا ہے۔سماک آرام نے میڈیاکو بتایا کہ یہ سب سے بڑا مارچ ہے۔رپورٹ کے مطابق متعدد مظاہرین دوسرے شہروں سے آئے ہیں۔ 28 سالہ خاتون نے بوسٹن سے آکر مارچ میں حصہ لیا، انہوں نے اپنا نام صرف مہشد بتایا، ان کی ٹی شرٹ پر لکھا تھا کہ ‘ایران کی آزادی میں مدد کریں’۔مہشد تین برس قبل ایران چھوڑ کر امریکا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے آئی تھیں، ان کا کہنا تھا کہ ہم مزید اس ظالم حکومت کو نہیں چاہتے، یہ ہمارے بنیادی انسانی حقوق اور آزادی پر پابندی لگا رہے ہیں۔ریلی میں شامل دیگر افراد کی طرح انہوں نے بھی اپنا مکمل نام نہیں بتایا کیونکہ انہیں اپنے رشتے داروں کے حوالے سے خوف ہے جو ایران میں مقیم ہیں۔ایک نوجوان خاتون کی طرف سے تھامے ہوئے پلے کارڈ کے ساتھ بالوں کی پٹی تھی، اس پر لکھا تھا کہ ہمارے بال آپ کو ناراض کرسکتے ہیں لیکن ہمارے دماغ آپ کو ختم کریں گے۔یاد رہے کہ گزشتہ مہینے 22 سالہ مہسا امینی کو اخلاقی پولیس نے ‘غیر موزوں لباس’ کے باعث گرفتار کیا تھا، حراست کے دوران وہ کومہ میں چلی گئی تھیں جہاں وہ انتقال کر گئی تھیں، ان کی موت کے بعد ایران میں حالیہ برسوں کے بڑے مظاہرے شروع ہوئے۔ایران میں مظاہرین کی حمایت کے لیے ہفتے کو برلن اور ٹوکیو میں بھی ریلیاں نکالی گئی تھیں۔واشنگٹن میں 55 سالہ خاتون مرجان نے بتایا کہ انہیں خوشی ہے کہ ریلی میں ایرانی نژاد لوگوں کے علاوہ دیگر افراد بھی شریک ہیں۔مرجان کا کہنا تھا کہ آپ مارچ میں مختلف عمروں، مختلف مذاہب او مختلف عقیدے کے لوگوں کو دیکھیں گے۔انہوں نے بتایا کہ ان کے بچپن کی دوست نگار بھی برطانیہ سے یہاں آئی ہیں، انہوں نے برطانیہ میں بھی اسی طرح کی ریلیوں میں شرکت کی ہے۔53 سالہ نگار نے بتایا کہ یہ خواتین کی قیادت میں حیرت انگیز انقلاب ہے، اور ایران میں یہ لوگ سب سے زیادہ مظلوم ہیں۔واشنگٹن میں مارچ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم سب سے کم جو کرسکتے ہیں وہ اس ریلی میں شرکت کرنا ہے۔